
کرناٹک – مہاراشٹر سرحد تنازع
ممبئی: (اردودنیا.اِن)کرناٹک اور مہاراشٹر کے مابین سرحدی تنازعہ مزید گہرا ہوتا جارہا ہے۔ دریں اثنا کرناٹک روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے کولہا پور کے راستے بسوں کا آپریشن عارضی طور پر روک دیا۔ اس علاقے میں کنڑ بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔ اس معاملے میں معلومات دیتے ہوئے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مہاراشٹرا کے کچھ لیڈران مراٹھی بولنے والے علاقوں کے انضمام کا مطالبہ کررہے ہیں،
جبکہ کنڑ حامی تنظیمیں اس کی سخت مخالفت کررہی ہیں۔نارتھ ویسٹ کرناٹک روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے بتایا کہ بیلگام میں مہاراشٹر کی ایک گاڑی پرسیاہی پوت دی گئی، جس کے بعد یہ تنازعہ مزید گہرا ہوگیا۔ عہدیدار نے بتایا کہ کولہا پور میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظربسیں نہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہیں صورتحال معمول پر آنے کے بعد بس خدمات بحال کردی جائے گی۔
شیوسینا کے لیڈرسنجے راوت نے کہا ہے کہ مہاراشٹر کے لوگوں پر حملہ کرنا قابل مذمت ہے اور جلد از جلد افسران کو معاملے کی تحقیقات کے لئے بھیجا جانا چاہئے۔ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہاکہ بیلگام ہندوستان کا ایک حصہ ہے اور مہاراشٹرا اور کرناٹک کے درمیان ایک لسانی تنازعہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو زیادہ گھسیٹنا نہیں چاہئے اور کرناٹک حکومت کو بھی اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔



