بین الاقوامی خبریں

مراکش نے جرمنی سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

برلن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مراکش کے اس فیصلے سے حیرت زدہ ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران مراکش اور جرمنی کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔مراکش نے برلن میں اپنے سفیر کو جمعرات کے روز ’صلاح و مشورے‘ کے لیے بلا لیا اورجرمنی پر متنازع مغربی صحارا خطے کے حوالے سے ’منفی موقف‘ اپنانے کا الزام لگا یا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دسمبر میں مغربی صحارا علاقے پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کرلیا تھا لیکن رباط نے اس معاملے پر جرمنی کے مخالفانہ اقدام کی سخت نکتہ چینی کی تھی۔مراکش کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ جرمنی نے مراکشی صحارا کے مسئلے کا تعمیری حل تلاش کرنے سے خود کو الگ کر لیا ہے اور تخریبی رویہ اپنا رہا ہے ۔گزشتہ دسمبر میں امریکا کی جانب سے متنازع مراکشی صحارا علاقے پر مراکش کے کنٹرول کو تسلیم کرلیے جانے کے فوراً بعد جرمنی نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مراکش کو اس بات سے ناراضگی ہے کہ جرمنی متنازع خطے کے حوالے سے امریکی فیصلے کی مخالفت کیوں کر رہا ہے۔ مراکش کی حکومت نے جرمنی پر مراکش کو بالخصوص لیبیا کے معاملے پر نظر انداز کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔جرمنی نے لیبیا کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے برلن میں جنوری 2020 کے وسط میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی تھی۔

اس کانفرنس میں افریقی یونین، یورپی یونین اور عرب لیگ کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ان تمام سربراہان مملکت کو دعوت دی تھی جو اس تنازے کا حصہ ہیں۔ لیکن اس میں مراکش کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ رباط کا موقف ہے کہ وہ لیبیا کے تنازعے کے حل کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

مراکش نے کہا تھا کہ اسے اس بات پر حیرت ہوئی ہے کہ اسے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نہیں دی گئی۔رباط نے اس کے علاوہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے قصوروارایک نامعلوم شخص کے ساتھ مبینہ ساز باز کے سلسلے میں بھی جرمن حکام کی نکتہ چینی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button