تلنگانہ کی خبریں

مستند صحافیوں کی خدمات میں کوئی رکاوٹ نہیں : وزیرداخلہ

صرف خودساختہ صحافیوں کے خلاف کارروائی ، پولیس کمشنر انجنی کمار کا دعویٰ

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ریاستی وزیرداخلہ محمد محمود علی نے پولیس کمشنر حیدرآباد انجنی کمار کو ہدایت دی کہ لاک ڈاؤن کے دوران مستند شناختی کارڈ اور ضروری دستاویزات رکھنے والے صحافیوں کو ان کی اپنی خدمات فراہم کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے۔ شہر کے صحافیوں نے لکڑی کا پل پر واقع پر دفتر پر وزیرداخلہ محمد محمود علی سے ملاقات کی اور شکایت کی کہ محکمہ پولیس کی جانب سے انہیں شہر کے مختلف مقامات پر خدمات کے دوران روکا جارہا ہے جس پر وزیرداخلہ نے پولیس کمشنر انجنی کمار سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور انہیں صحافیوں کی شکایت سے واقف کرایا۔

جس پر پولیس کمشنر نے وزیرداخلہ کو بتایا کہ صحافیوں کے نام پر خودساختہ صحافی بازاروں میں گشت کررہے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کو لاک ڈاؤن کے اصولوں پر عمل آوری میں دشواری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکریڈیشن کے علاوہ شناختی کارڈ اور ضروری دستاویزات رکھنے والے مستند صحافیوں کو کبھی بھی نہیں روکا جارہا ہے جبکہ خودساختہ صحافیوں کے خلاف ہی کارروائی کی جارہی ہے۔

وزیرداخلہ نے مستند صحافیوں کو ان کی خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیرنے کہا کہ صحافی بھی اپنے شناختی کارڈ کے علاوہ ضروری دستاویزات رکھیں اور لاک ڈاؤن کے قواعد پر سختی سے عمل کرتے ہوئے پولیس سے مکمل تعاون کریں۔ تلنگانہ حکومت جمہوریت کے چوتھے ستون میڈیا کا احترام کرتی ہے اور تلنگانہ کی پولیس سارے ملک میں فرینڈلی پولسنگ کیلئے شہرت رکھتی ہے۔

ریاست میں کورونا پر قابو پانے کیلئے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران پولیس متحرک ہے اور نرمی سے عوام کے ساتھ پیش آرہی ہے۔ اس کے باوجود نوجوان طبقہ غیرضروری گاڑیوں پر شہر کی سیر کیلئے گھروں سے نکل رہے ہیں جو نامناسب ہے۔ وزیرداخلہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران صرف نرمی کے اوقات میں گھروں سے باہر نکلیں اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے بعد 10 بجے سے قبل گھروں کو لوٹ جائیں۔

گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک ضرور لگائیں اور ہر گھر سے صرف ایک ہی فرد باہر نکلیں اور ایک ہفتہ کی ترکاری اور اشیاء خرید لیں اور بازاروں میں سماجی فاصلہ کی دوری کو برقرار رکھیں۔ سائنیٹائزر کا استعمال کریں اور پوری احتیاط سے کام کریں ورنہ معمولی سی غفلت اور لاپرواہی سے گھر کے دوسرے افراد کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button