
راملہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کےدرمیان تصادم کے نتیجے میں 6 اسرائیلی پولیس اہلکار اور 175 فلسطینی زخمی ہوگئے۔جمعہ کے روز اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کےدرمیان تصادم اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئی۔ اسرائیلی فوج نے وہاں پرموجود فلسطینی نمازیوں اور روزہ داروں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا جس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی۔
سعودی عرب اور فلسطینی اتھارٹی نے مسجد اقصیٰ میں نہتے فلسطینی نمازیوںپر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے القدس میں فلسطینیوںکو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ مقبوضہ یروشلم گذشتہ کئی سال سے تشدد کا شکار ہے مگر کل جمعہ کے روز پیش آنے والے پرتشدد واقعات زیادہ تشویشناک اور غیرمعمولی ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں پر تشدد کی تمام تر ذمہ داری اسرائیلی ریاست پرعاید کی ہےہلال احمر فلسطین کے مطابق تنظیم کے طبی عملے نے مسجد اقصیٰ میں زخمی ہونے والے 178 افراد کو طبی امداد فراہم کی جب کہ 80 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اس کے چھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
شاهد.. مواجهات بين القوات الإسرائيلية والشباب الفلسطيني في باحات المسجد الأقصى في الجمعة الأخيرة لشهر #رمضان#العربية pic.twitter.com/G25tO2crDz
— ا لــعــر بــيــة (@AlArabiya) May 7, 2021
ہلال احمر نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں پرحملے کے دوران اسرائیلی پولیس نے فلسطینی طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا اور فلسطینیوں کے چہروں اور آنکھوںکو نشانہ بنایا گیا۔



