
راملہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسجد الاقصیٰ میں نماز عید کے اجتماع میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی شہادت پر عید سادگی سے منائی جا رہی ہے ۔فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطین میں عید کی تمام تقریبات منسوخ کردی تھیں ۔ ہزاروں افراد کو مسجد اقصیٰ پہنچنے اور اس کے صحنوں میں نماز پڑھنے سے روکنے کے لئے اسرائیلی فوج کی طرف سے عائد سخت پابندیوں کے باوجودیروشلم کی مسجد اقصیٰ میں آج جمعرات کی صبح ہزاروں فلسطینیوں نے عید الفطر کی نماز ادا کی۔
ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے عید الفطر کی نماز اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی القدس کے علاقے قدیم شہر میں واقع مسجد اقصیٰ میں ادا کی۔ہر سال کی طرح اس دفعہ بھی مشرقی القدس کے فلسطینیوں نے نمازِ عید کی ادائیگی کے لئے جوق در جوق مسجد اقصیٰ کا رُخ کیا۔
حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوجیوں کے حملوں کا نشانہ بننے والی مسجد نمازیوں سے مکمل طور پر بھر گئی۔القدس محکمہ اسلامی وقوف کی طرف سے جاری کئے گئے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد نے حرمِ قدسی شریف میں نماز عید ادا کی۔نمازِ عید کے بعد تمام شہداء کے لئے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔بعد ازاں کثیر تعداد میں فلسطینیوں نے حرمِ قدسی شریف کی قبلہ مسجد اور قبۃ الصحرہ کے درمیانی حصے میں احتجاجی مظاہرہ کیا
un grand nombre de palestiniens ont arrivé a la mosquée #AlAqsa pour faire la prière de L’AIDE #GazaUnderAttackk #IsraeliTerrorism #Hamas #PalestineWillBeFree #Palestine #المسجد_الأقصى #فلسطين_تنتقض #فلسطين_قضيتنا_الأولى #AlAqsaMasjid #FilistiniNeKurtarır pic.twitter.com/I2X5vHBdJW
— karima zerrouki (@karimazerrouki4) May 13, 2021
مسجد اقصیٰ کے مبلغ شیخ محمد سلیم نے بتایا ہے کہ "ہمارے لوگ ان تمام مصائب سے دوچار ہونے کے باوجود عید کے موقع پر خوشی منائیں گے ، اور وہ ہمارے نبی کریم صلی الله علی وسلم کی خوبصورت سنت کی پیروی کریں گے ، عید کے دن درود و سلام ہو۔
تكبيرات #عيد_الفطر من ساحات #المسجد_الأقصى المبارك pic.twitter.com/JpRgfiSsQD
— شبكة قدس الإخبارية (@qudsn) May 13, 2021
فلسطین اور کلمہ توحید کی عبارت والے پرچموں کے ساتھ نمازیوں نے آزادی اور ہماری جان ہمارا خون تم پر قربان اے اقصیٰ کے نعرے لگائے۔واضح رہے کہ مسلمانوں کا قبلہ اوّل اور مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ رواں سال ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں اسرائیلی پولیس کے حملوں کو ہدف بنی ہے۔
اسرائیلی پولیس نے 7 مئی کو نمازِ تراویح کے دوران حرمِ قدسی شریف کی جماعت پر سٹن گرنیڈ پھینکے اور ربڑ بلٹ فائر کئے جس کے نتیجے میں 205 افراد زخمی ہو گئے اور کثیر تعداد میں فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
ہزاروں فلسطینیوں نے 10 مئی کو متعصب یہودیوں کے مسجد اقصیٰ پر حملے کے سدباب کے لئے حرمِ قدسی شریف میں پہرہ دیا۔اسرائیلی پولیس نے پہرے دینے والے فلسطینیوں پر ربڑ بلٹ، سٹن گرنیڈوں اور آنسو گیس سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 330 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔



