سرورققومی خبریں

مشکل گھڑی میں پیارے خان لوگوں کیلئے بنے فرشتہ، 85 لاکھ خرچ کرکے 400 میٹرک ٹن’آکسیجن مفت پہنچا چکے ہیں اسپتال

ممبئی:(اردونیا.اِن) ناگپور کے رہنے والے پیارے خان کورونا وبا کے دور میں امید کی کرن بن کر سامنے آئے ہیں۔ سنترا بیچنے اور آٹو رکشا چلانے تک کا کام کرنے والے پیارے خان اب ایک بڑے ٹرانسپورٹر ہیں۔ مصیبت کی اس گھڑی میں وہ ایک ہفتے میں 85 لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں جس سے 400 میٹرک ٹن آکسیجن اسپتالوں تک پہنچا چکے ہیں۔ناگپور کے رہنے والے پیارے خان کورونا وبا کے دور میں امید کی کرن بن کر سامنے آئے ہیں۔

پیارے خان نے سنتری فروخت کیا اور آٹو رکشا تک چلایا لیکن اب وہ ایک بڑے ٹرانسپورٹر ہیں۔مصیبت کی اس گھڑی میں انہوں نے ایک ہفتے میں 85 لاکھ روپے خرچ کر کے 400 میٹرک ٹن آکسیجن اسپتالوں تک پہنچا چکے ہیں۔پیارے خان کے پاس 300 ٹرک ہیں۔ 400 کروڑ مالیت کی کمپنی کے مالک پیارے خان تقریبا 2 ہزار ٹرکوں کے نیٹ ورک کو مینج کرتے ہیں۔

جس کے دفاتر نیپال ، بھوٹان ، بنگلہ دیش میں ہیں۔آکسیجن سپلائی کے لئے انہوں نے حکومت سے کوئی مدد نہیں لی اور سارا خرچ خود ہی برداشت کررہے ہیں۔وہ رمضان کے مقدس مہینے میں اس خرچ کو ’زکوٰۃ’‘یا صدقہ کے طور پر مانتے ہیں۔پیارے خان اب تک ناگپور کے علاوہ دیگر اسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر فراہم کرچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رائے پور ، بھلائی ، راورکیلا جیسی جگہوں پر آکسیجن سپلائی کر چکے ہیں۔ ان کی اس پہل میں ایمس سمیت دیگر اسپتالوں میں 50 لاکھ روپے مالیت کے 116 آکسیجن کونسیٹرس شامل ہیں۔پیارے خان کے والد تاج باغ علاقے کی جھوپڑ پٹی میں رہتے تھے۔ 1995 میں ناگپور ریلوے اسٹیشن کے سامنے پیارے نے سنترا بیچنا شروع کیا تھا۔

اس کے علاوہ آٹورکشا چلایا ساتھ ہی ایک آرکسٹرا کمپنی میں بھی کام کیا تھا۔ محنت کی وجہ سے پیارے 400 کروڑ روپے مالیت کی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک ہیں۔ یہی ان کی زندگی کی کہانی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button