
قاہرہ:( ایجنسیاں) جنوبی مصر میں بروز جمعہ دو ٹرین کے مابین تصادم میں 32 افراد جاں بحق اور 66 زخمی ہوگئے۔ وزارت صحت کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا کہ حادثہ کی اطلاع ملنے پر تقریبا ً ایک درجن ایمبولینس جائے حادثہ بھیج دیاگیا ہے۔ یہ علاقہ دارالحکومت قاہرہ سے تقریباً 460 کلومیٹر دور ہے۔ رپورٹ کے مطابق32 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوئے ہیں۔ منظرعام پر آنے والی ویڈیو فوٹیج میں ٹرینوں کے کئی کوچز الٹے دیکھے جاسکتے ہیں۔
#BREAKING: 50 people injured in collision of two trains in Upper Egypt: official from the Health Ministry to local media#EgyptToday #BreakingNews | #طهطا #سوهاج #عاجل #قطارين pic.twitter.com/pf6TJAuxj5
— Egypt Today Magazine (@EgyptTodayMag) March 26, 2021
اہم بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں مصر میں ریل کے متعدد بڑے حادثات ہوئے ہیں ، ناکافی انفراسٹرکچر اور ناقص دیکھ بھال کی وجہ سے سال 2002 میں ایسے ہی ایک ٹرین حادثے میں 373 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ یہ حادثہ ٹرین میں آگ لگنے کی وجہ سے پیش آ یا تھا۔ گذشتہ سال مارچ میں قاہرہ میں دو ٹرینوں کے تصادم میں 13 افراد زخمی ہوئے تھے ،
#BREAKING: 50 people injured in collision of two trains in Upper Egypt: official from the Health Ministry to local media#EgyptToday #BreakingNews | #طهطا #سوهاج #عاجل #قطارين pic.twitter.com/pf6TJAuxj5
— Egypt Today Magazine (@EgyptTodayMag) March 26, 2021
جس کے بعد ملک میں مختصر وقت کے لئے ریلوے خدمات معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس وقت محکمہ ریلوے کے عہدیداروں نے الزام لگایا تھا کہ خراب موسم میں سگنل کام نہیں کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں فروری 2019 میں ٹرین میں آگ لگنے سے 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
صدر عبد الفتاح السیسی نے مہلک تباہی کے ذمہ داروں کو سزا دینے کا وعدہ کیا۔السیسی نے ٹویٹر پر کہا ، یہ حادثہ جن وجوہات کی وجہ سے بھی ہوا ہو،ذمہ داروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ان کو سزا ضرور دی جائے گی۔جب مصری عوام کی بنیادی خدمات بشمول ریلوے کی بات کی جائے تو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس طرح کے حادثات بعض اوقات ہفتہ وار بنیادوں پر ہوتے ہیں۔



