اورنگ آباد خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت کے لئے 23؍ دسمبر کی تاریخ مقرر
دسمبر18 ( پریس ریلیز ) ممنوعہ تنظیم داعش سے تعلق رکھنے کے الزام میں اورنگ آباد اور ممبرا کے گرفتار شدہ نو جوانوں کا مقدمہ اورنگ آباد کی خصوصی عدالت میں چل رہا ہےکوڈ19 کی وجہ سے یہ مقدمہ گذشتہ کئی مہینوںسے التوا کا شکار تھا اب جب کہ کوڈ19 کے اثرات کم ہوئے ہیں اس کیس کی کاروائی دوبارہ سے شروع ہو گئی ہے آج ممبرا اور رنگ آباد داعش معاملہ میں ملزمین پر عائد کردہ فرد جرم پر بحث اور جرح مکمل ہوگئی ہے ۔آئندہ سماعت کے لئے عدالت نے 23؍ دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے،اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبرا، اور اورنگ آباد سے گرفتار کئے گئے9؍ مسلم نوجوان مظہر عبد الرشید ،محسن سراج الدین خان ،سلمان سراج الدین خان تقی سراج الدین خان ،سر فراز عبد الحق عثمانی،طلحہ حنیف پوترک ،فہد اشتیاق انصاری ،ضمان نواب قطو پاڑاور مشاہدکو اس کیس میں سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے اور پورے ہی معاملہ میں بڑی دھاندلیاں،غیر قانونی چیزیں ،اور قانونی ضابطوں کی خلاف ور زی کی گئی ہے۔عدالت میں داخل کردہ فرد جرم میں کئی قسم کے الزامات عائد کئے گئے ہیں جس میں یواے پی اے جیسے سخت ترین قوانین سمیت چار دفعات لگائے گئے ہیں جن میں 18،20،38،اور 39 شامل ہیں اور تعزیرات ہند کے دفعہ 201 اور 120 بی اور ممبئی پولیس ایکٹ کا دفعہ 135 لگایا گیا ہے ،ان الگ الگ دفعات میں ملز مین کے لئے تین سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا تجویز کی گئی ہے ۔
واضح رہےکہ اورنگ آباد اور ممبرا سے گرفتار کئے گئے نوجوانوں کا مقدمہ جمعیۃ علما مہاراشٹر کی لیگل ٹیم جوکہ ماہرین قانون داں پر مشتمل ہے اور رنگ آباد کی خصوصی عدالت میں پیروی کررہی ہے۔ آ ج سما عت کے دوران عدالت میں دفاع کی جانب سے بحث اور جرح مکمل ہو گئی ہے ۔عدالت نےاگلی سماعت کے لئے23 ؍ دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے،عدالتی کاروائی کو دیکھتے ہوئے روز بروز کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت شروع ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے، اورنگ آباد میں اس کیس کی پیروی جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کر رہے ہیں ۔



