
دیویندر فڑنویس کے الزامات پر وزیر داخلہ نے دیا کرارا جواب
ممبئی: (اردودنیا.اِن)اسٹارس کے ٹویٹ معاملے سے متعلق مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے مابین کافی تنازعہ ہوا۔ مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت کے لیڈر اور سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے مشہور شخصیات کے ٹویٹس کی تحقیقات کے معاملے پر حکومت پر شدید حملہ کیا۔ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ حکومت شرجیل عثمانی کی حمایت کرتی ہے اور بھارت رتن لتا منگیشکراور سچن تندولکر کے خلاف کاروائی کرنے کی بات کرتی ہے۔
فڑنویس نے کہا کہ لتا منگیشکر اور سچن تندولکر نے ان لوگوں کے خلاف ٹویٹ کیا جو ہندوستان کے خلاف پروپیگنڈہ چلا رہے ہیں۔اسمبلی میں فڈنویس نے پوچھا کہ لتا منگیشکر یا سچن تندولکر نے کیا لکھا؟۔ انہوں نے ہندوستان کے خلاف جاری پروپیگنڈہ کے خلاف ٹویٹ کیا۔ ٹول کٹ میں لکھا گیا ہے کہ ہندوستان کا معاشی اور معاشرتی نقصان کیسے کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ لتا منگیشکراور سچن تندولکر نے انڈیا اگینسٹ پروپیگنڈا لکھا۔
انہوں نے لکھاکہ ہندوستان کھڑا ہے ،کیا یہ کہنا غلط ہے؟۔مہاراشٹرا کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے ان کے سوالات کے جوابات دئے۔
انیل دیشمکھ نے کہاکہ ہم نے سچن تندولکر اور لتا منگیشکر پر کاروائی کرنے کے بارے میں بات نہیں کی، بلکہ اس کی تحقیقات پارٹی کے آئی ٹی سیل نے کی، جس میں 10 سے 12 افراد کے نام سامنے آئے تھے۔ ویسے، لوگوں پرکاروائی جاری ہے۔
اس سے قبل دیویندر فڑنویس نے کہا تھاکہ اگر ہماری پارٹی نے ان سے ملک کی حمایت میں ٹویٹ کرنے کو کہا ہے تو ہمیں اس پر فخر ہے۔ ایک لمحے کے لئے میں اتفاق کرتا ہوں کہ ہم نے ان سے ٹویٹ کرنے کو کہا ہے، اگر ملک کے لئے یہ کرنے کو کہا جائے تو پھر اس میں کیا جرم ہے؟ ہم آپ کے عمل سے خوفزدہ نہیں ہیں۔



