مواخذے کی کارروائی سیاسی انتقام پر مبنی ہے، ٹرمپ کی وکلا ٹیم

واشنگٹن: (ایجنسی)امریکی سینیٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی جاری ہے۔ سابق صدر کے وکلا کی جانب سے دلائل پیش کئے جا رہے ہیں جن کے مطابق کیپیٹل ہل پر حملے کی زمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد نہیں کی جا سکتی اور انہیں اپنے عہدے سے سبکدوشی کے بعد چھ جنوری کے واقعات کے لئے مورد الزام ٹہرانا غیر آئینی ہے۔ٹرمپ کے وکلانے سابق صدر کا دفاع کرتے ہوئے ڈیمو کریٹک اراکین کی اس دلیل سے اتفاق کیا کہ چھ جنوری کو ہونے والا تشدد غیر قانونی اور ناقابل قبول تھا،
تاہم ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا چھ جنوری کو کیپیٹل ہل کی عمارت پر حملے کے ذمہ داروں کو اکسانے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ڈیفنس ٹیم کے رکن مائیکل وین ڈیر وین نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ سینیٹ کے سامنے پیش کیا جانے والا مواخذے کا آرٹیکل ایک غیرآئینی اور سیاسی انتقام پر مبنی اقدام ہے۔
انہوں نے اس کارروائی کو ڈیموکریٹس کی طرف سیالزام تراشی اور سزا دلوانے کی کوشش قرار دیا۔وین ڈروین کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں سے زائد عرصے سے بائیں بازو کے خیالات رکھنے والوں نے سیاسی دہشت پھیلانے کے لئے ایک لا یعنی مہم چلا رکھی ہے اور یہ مواخذہ حقائق ، شواہد اور امریکی عوام کے مفادات کے بالکل بر عکس ہے۔سابق صدر کے وکلا نے سینیٹروں کو بتایا کہ سابق صدر کو پوری طرح سے حق حاصل ہے کہ وہ صدر جو بائیڈن سے اپنی انتخابی شکست پر سوالات اٹھائیں۔
دفاعی وکلا نے کہا کہ کیپٹل ہل پر ایک متشدد ہجوم کی چڑھائی سے پہلے سابق صدر کا اپنی تقریر میں اپنے حامیوں سے کہنا کہ فائٹ لائیک ہیل یعنی پوری جانفشانی سے لڑیں، آزادی اظہار کے زمرے میں آتا ہے، جس کی اجازت موجودہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم دیتی ہے۔صدر ٹرمپ کے وکلا نے ایک ویڈیو بھی دکھائی، جس میں امریکہ کی نائب صدر کاملا ہیرس، سینیٹر الزبتھ وارن اور سینیٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما چک شومر سمیت کئی اہم شخصیات کو لفظ فائٹ استعمال کرتے دکھایا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں ان ڈیمو کریٹک قانون سازوں کو بھی دکھایا گیا ہے، جو مواخذے کے مینیجر ہیں اور اب سابق صدر پر ہجوم کو اکسانے کا الزام عائد کرکے مواخذہ کر رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ ڈیمو کریٹک اراکین نے چھ جنوری کے واقعات کی ہولناک ویڈیوز دکھانے کے لئے مواخذے کی کارروائی تک کا انتظار کیوں کیا۔ ان کے بقول، مواخذے کے ڈیمو کریٹک مینیجرز کی ذمہ داری تھی کہ ایسے شواہد سینیٹ کے فورم پر لانے سے پہلے سابق صدر کے وکلا کو دکھائے جاتے۔سابق صدر اپنے مواخذے کی کارروائی میں پیش ہونے سے انکار کر چکے ہیں۔



