
مہاراشٹر بجٹ اجلاس میں بھی سی اے اے این آر سی کے خلاف قراردادیں منظوری کیلئے پیش ہوگی
ممبئی :(اردودنیا.اِن)ریاست مہاراشٹر میں بھی سی اے اے۔این آر سی۔ این پی آرکے خلاف اسمبلی میں قرارداد منظور کر کے یہ یقینی بنایا جائے کہ اسے ریاست مہاراشٹر میں نافذ العمل نہیں لایا جائیگاجس طرح سے 13 صوبوں میں اسمبلی میں قرار منظور کی گئی اسی طرز پر یہاں بھی بجٹ اجلاس میں قرار منظوری کے لیے اسمبلی میں ریگولیشن پیش کرنے کا فیصلہ لیا گیا
یہ قراردادآج یہاں قلابہ مں ملی تحریک فائونڈیشن کی ایک اہم نشست میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی چئیرمین ملی تحریک فائونڈیشن کی صدارت میں منظور کی گئی ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ مسلم ریزرویشن کو منظوری کے لئے اس اسمبلی اجلاس میں آواز بلند کی جائے گی تاکہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف ہو
مکوکا یو اے پی اے ایکٹ کے مقدمات میں ماخوذ ملزمین کی مقدمہ کی پیروی نہ ہونے کی وجہ سے مسلم نوجوان برسوں جیلوں میں مقید رہتے ہیں اور پھر باعزت رہائی ہوتی ہے اس لئے ان کیسوں کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جائے مسلم مسائل کو حل کرنے کے لئے مسلم اراکین اسمبلی کو متحد ہو کر آواز بلند کی ضرورت ہے یہ وقت کاتقاضہ ہے
مسلمانوں کا پریشر گروپ کا قیام بھی ضروری ہے کئی اہم مطالبات بھی اس بجٹ اجلاس میں منظور کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ مسلم اراکین اسمبلی اپنی بات منوانے کے قائل نہیں ہے اس لئے ہمیں اس قابل ہونا چاہئے کہ ہماری بات سرکار سن کر اسے قبول کرے
یہ اس وقت ہی ممکن ہو گا جب ہم آپس میں متحد ہوکر کام کریں گے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے قرارداد منظور کرنے کی تجویز آج کی میٹنگ میں پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا اس میٹنگ کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے ملی تحریک فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری سعیدحمید نے اردو اکیڈمی۔ اقلیتی کمیشن۔ مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کی بحالی کا پرزور مطالبہ کیا او اس میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دو کرنے کے لئے مسلم ریزرویشن کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
اس میٹنگ میں جماعت اسلامی کے سلیم خان۔ ایس آئی او کے شہر یار۔ ایڈوکیٹ ایاز۔ مولانا جاویداحمد۔ شبانہ خان۔ وکیل خان۔ پروفیسر کلیم ضیا۔ ماہر تعلیم مبارک کاپڑی سمیت سرکردہ اشخاص شریک تھے۔ اس میٹنگ مںیں رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ بجٹ میں تعلیمی وظائف۔ تعلیمی ادارہ۔ اقلیتی بجٹ پر توہم کام کرتے ہیں لیکن ہم پورے ڈیولپمنٹ ترقیاتی بجٹ پر کام کرنے سے قاصر ہے دیہی بجٹ بھی کافی وسیع و عریض بجٹ ہوتا ہے اس میں پورا تعلیمی بجٹ بھی ہوتاہے۔
بجٹ ہمیشہ شعبہ جات پر محیط ہوتا ہے۔ اس میں محصولات اوراخراجات پرمبنی ہوتاہے۔ ایڈوکیٹ زید صدیقی نے کہا کہ دھاراوی میں اسکول کی کمی ہے یہاں سب سے زیادہ مسلم آبادی ہے اس کے باوجود اسکول کی تعمیر میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی مقامی رکن اسمبلی ورشا گائیکواڑ کی بھی اس جانب توجہ مبذول کروائی گئی
لیکن اس پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ سیماب خان نے کہا کہ تعلیمی وظائف اورابتدائی تعلیم کو مفت کرنے کی ضرورت ہے وزیر خزانہ نے اسکولوں کی تزئین کاری کا منصوبہ لایا تھا اس پر عمل آوری نہیں ہو ئی اسکول میں زیر تعلیم بچوں کو نقل و حمل کی سہولت ہونی چاہئے بے روزگاری کے خاتمہ کے لئے وزیر اعلی روزگار اسکیم کو مستحکم اور موثر بنانے کی ضرورت ہے تعلیمی سطح پر مسلم ریزرویشن بھی ضروری ہے چھ مقامات پر اقلیتوں کے لئے ہوسٹل کا قیام التوا کاشکار ہے اردو گھر کی تعمیر وقف بورڈ کی ملکیت کے کرایہ میں اضافہ کرنے کے لئے نئے کرایہ کی شرح پر عمل آوری کی جائے اس لئے وقف کی ملکیت کے لئے ایک خود مختار وزارت کا قیام بھی کیاجائے۔
محمود الرحمن کمیٹی کو نفاذ العمل کیا جائے سی اے اے این آر سی کے مظاہروں میں شامل مظاہرین پر درج کیس کو واپس لیا جائے۔ ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے کہا کہ چاپٹر کیس کی آڑ میں سی اے اے این آر سی میں شریک مظاہرین کو ہراساں کیا جارہا ہے باؤنڈ بھی جبرا لیا جارہا ہے بارہا انہیں پولس اسٹیشن طلب کیا جارہا ہے۔
ایس آئی او کے شہریار نے کہاکہ ڈاکٹر ذاکر حسین مدرسہ بورڈ اسکیم میں تزائین کاری کے لئے فنڈ فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مدارس میں انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔پروفیسر ڈاکٹر کلیم ضیا نے کہا کہ اسماعیل یوسف کالج کو انجمن اسلام کے سپر د کر دیا جانا چاہئییہ سفارش محمود الرحمن نے بھی کی تھی۔گیارہویں اور بارہویں میں مسلمانوں کو بیس فیصد ریزرویشن ہوتا ہے لیکن تیراہویں میں یہ رعایت ختم ہوجاتی ہے۔ محکمہ تعلیم اسماعیل یوسف کالج کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔
اردو عربی اور فارسی کے اساتذہ نے اس پرکام کیا تھا کامیابی نہیں ملی ہے اسماعیل یوسف کالج عربی اردو اور فارسی کے لئے قائم کیا گیا لیکن اس میں صر ف ایک استاذ ہی ہے یہ اردو کے ساتھ بھی سوتیلاسلوک ہے سرکار اس کالج پر قبضہ کر کے درخت کاٹ کر کے چہل قدمی کا پارک بنایا پولس والوں کی نظر بھی اس کالج پر یہاں وہ لوگ پولس کوارٹر اورکالونی بنانا چاہتی ہیاس پر غیر قانونی قبضہ جات جاری ہے۔
اس کالج میں اردو فارسی عربی پڑھنا لازمی ہے اس لئے اس میں ٹیجر کی تقرری ضروری ہے۔ بی ایم سی اسکول میں بیٹ افسر کی تعداد میں کمی واقع ہو ئی ہے کیونکہ بیٹ افسر اردو سے تعلیم حاصل کرتے ہیں اس لئے مراٹھی سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اردو گھر کی اسماعیل یوسف کالج میں قیام لازمی ہے۔
ایڈوکیٹ اکر م نے بتایا کہ ایس آر ایبلڈنگ میں مکینوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مکینوں کو کرایہ تک نہیں مل رہا ہے۔ تعلیمی قرض کی دستیابی کی سبیل پیدا کی جائے ڈرگس سے پاک ممبئی میں تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔مسلم علاقے میں ڈرگس عام ہے۔ ماہر تعلیم مبارک کاپڑی نے کہا کہ اقلیتی طلبا کو سو فیصدی فیس کی ادا ئیگی کی جائے مقابلہ جاتی امتحانات کی کوچنگ سینٹروں میں مفت تعلیم دی جائے۔
مسلم طلبا و طالبات کو ہوسٹل میں قیام کی اجازت دی جائے تعلیمی قرض کے حصولیابی کویقینی بنایا جائے۔ بیرون ملک میں تعلیمی سفر کے لئے قرض دیا جائے نیٹ کے امتحانات کی تیاری کے لئے فنڈ مختص کیا جائے مولانا آزاد مالیاتی شرط کو آسان بناجائے۔
مسلم تعلیمی ادارے میں اساتذہ کو تقرری دی جائے مسلم تعلیمی ادارے کو فنڈ اور انٹ د ی جائے اردو سب سے زیادہ بولی اور پڑھی جاتی ہے اور دوسری سب سے بڑی زبان ہے مدارس کو فنڈ کی فراہمی شادی کے لئے بھی مدد و مراعات لڑکیوں کے لئے دی جائے
زبانی امتحان میں ریکارڈنگ کروائی جائے تاکہ ہمارے بچے امتحان بھی کامیا ب ہو کیونکہ یہاں روکا جاتا ہے اور وہاں تعصب ہوتا ہے۔ سماجی خادمہ شبانہ خان لاک ڈاون میں کورونا کے سبب خواتین کو کافی تکلیف ہوئی ہے شرح طلاق میں بھی اضافہ ہوا ہے خواتین کی حالت زار ہے لڑکیوں کی تعلیم میں ڈراپ آؤ ٹ بڑھ گیا ہے۔ خواتین کی کفالت ضروری ہے۔
حاملہ خواتین کی شرح اموات تعداد بھی زیادہ ہے غذائی سمیت بھی لڑکیوں میں زیادہ ہیں لڑکیوں کو تعلیمی بیداری ضروری ہے۔ اس پر عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔ لاکالج قیام مسلم اکثریتی علاقوں میں یقینی بنایا جائے اگر مسلم وکیل بنتے ہیں تو آئندہ وہ قانون کی ڈگری حاصل کر کے جج بھی بن سکتے ہیں وہ سرکری ملازمتوں میں بھی آگے بڑھ سکتے ہیں اس لئے اس پر بھی توجہ دی جانی چاہئے۔



