
ینگون:(ایجنسیاں)کیرن اقلیتی گروپ سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے میانمار میں ایک فوجی چوکی پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرلیا ہے۔ خبرو ں کے مطابق اس لڑائی میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔کیرن نیشنل یونین (کے این یو) کے فورسز نے منگل کے روزشمال مغربی تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب مشرقی میانمار میں ایک فوجی چوکی پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کر لیا۔
BREAKING: KNU's Karen National Liberation Army’s Brigade 5 attacked #Myanmar military’s border post in Thaw Le Hta, near the border with Thailand’s Mae Hong Song, and seized the post about 6 a.m. Apr.27. Several casualties were initially reported. https://t.co/b3lh2pgH3O pic.twitter.com/G5To8pBDdL
— The Irrawaddy (Eng) (@IrrawaddyNews) April 27, 2021
کے این یو کے امور خارجہ کے سربراہ پادو ساہ تاو نی نے خبر رساں ایجنسیوں کو بتا یاکہ ہماری فوج نے برمی فوجی کیمپ پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ لڑائی سالوین ندی کے قریب ہوئی جو میانمار اور تھائی لینڈ کو الگ کرتی ہے۔ تھائی گاوں والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تصادم کی جگہ سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں۔تاونی نے کہا کہ ان کا گروپ کیرن فورسز اور میانمار فوج کے درمیان ہونے والی لڑائی میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے متعلق اطلاعات جمع کر رہی ہے۔
کیرن نیشنل لبریشن آرمی، کارین نیشنل یونین کا مسلح ونگ ہے،جو سن 1949سے ہی میانمار حکومت کے ساتھ جنگ لڑ رہی ہے۔ میانمار کے کیرن نسلی اقلیتی گروپ کے قوم پرست اپنی ایک علیحدہ آزاد ریاست چاہتے ہیں۔ میانمار کی فوج نے ملک کے جنوب مغربی کاین ریاست میں مارچ سے فضائی حملے شروع کررکھے ہیں۔ ان فضائی حملوں سے بچنے کے لیے نسلی کیرن لوگوں کو تھائی لینڈ بھاگنے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔یکم فروری کو فوجی بغاوت کے ذریعہ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی (این ایل ڈی)کی حکومت کو معزول کردینے کے بعد سے ہی میانمار فوج کے کنٹرول میں ہے۔
اسٹیٹ کاونسلر آنگ سان سوچی اور این ایل ڈی سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما قید میں ہیں۔ سینئر جنرل من آنگ ہلینگ میانمار کے عملاً سربراہ ہیں۔میانمار کی فوج نے فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف انتہائی بربریت کا مظاہرہ کیا ہے جس کی مغرب نے سخت مذمت کی ہے۔ ان فوجی کارروائیوں میں اب تک 750 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔



