نارائن پیٹ : نارائن پیٹ میں واقع بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبول جامعہ نظامیہ کی شاخ مدرسہ دارالعلوم دینیہ جامع مسجد نارائن پیٹھ کے زیر اہتمام 150سالہ جشن تاسیس جامعہ نظامیہ و106واں عرس مبارک کے عظیم الشان پر ایک آن لائن جلسہ بنام جشن حضرت شیخ الاسلام رحہ منایا گیا۔ اس جلسہ کی سرپرستی حضرت سید شاہ غیاث الدین قادری سجادنشین بارگاہ حضرت تقی بابا رحہ نے کی۔ اور جناب الحاج محمد نواز موسی صدر دارالعلوم دینیہ جامع مسجد نارائن پیٹھ نے صدرات کی ۔
مہمان خصوصی طور پر آن لائن خطاب مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا ہ قادری خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ھاؤز نامپلی حیدر آباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت بانی جامعہ نظامیہ رحہ نے اینی مبارک زندگی دین اسلام کے لئے وقف کردی اور تمام علوم وکمالات سے قوم وملت کی آ صلاح وفلاح،رشدوہدایت کا اہم ترین فریضہ انجام دیا ،علم دین کی اشاعت کے لیے ایک عظیم دینی ادارہ جامعہ نظامیہ اورغیر معمولی نوعیت کا تحقیقی ادارہ دائرۃ المعارف العثمانیہ قائم فرمایا؛یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آپ رحہ علم و فضل کے اعتبار سے ہر محاذ پر اسلامی تعلیمات کے محافظ تھے۔
عشقِ الہٰی، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عشقِ اہلِ بیت و صحابہ آپ کی زندگی کا جزوِ لاینفک بلکہ فطرتِ ثانیہ ہے جو بچپن سے آپ رحہ کے معمولاتِ زندگی میں شامل تھا۔شیخ الاسلام کے نزدیک حقوق اللہ اولین ترجیح کے حامل جبکہ حقوق العباد اور حسنِ خلق حقوق اللہ کی قبولیت کا ذریعہ ہیں۔ علوم القرآن اور علوم الحدیث پر کامل دسترس شیخ الاسلام کا اثاثہ رہا جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور فیض رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آئینہ دار ہے۔
اسی طرح شیخ الاسلام غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحہ کے فیوضات و کمالات کے امین اور وارثِ حقیقی بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے آپ اپنےدورِ کے چراغِ علم و عرفان رہے جس کی روشنی سے ایک عالم منور و تاباں ہورہاہے۔ یہ شیخ الاسلام کی ذات ہی ہے جس نے نوجوانانِ ملت کو جہالت و بے راہ روی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر علم و عرفان کے نور سے مالا مال کیا۔
اس لیے ہم کہتے ہیں کہ شیخ الاسلام امتِ مسلمہ کا عظیم سرمایہ اور علم و فضل کا لازوال خزانہ تھے۔ بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس دورِ میں آپ اسلام کی حقیقی فکر کے پیامبر تھے۔
اس جلسہ سے مولانا شفاعت علی نظامی اور مولانا فاروق بن مخاشن نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ کا آغاز حافظ محمد فخرالدین تاج امام جامع مسجد کی قرات کلام پاک سے ہوا۔ اس موقع پر محمد تقی موذن کے علاوہ دیگر موجودہ تھے۔
