
رام پنیانی
ہمارا ملک ہندوستان فی الوقت ایک بدترین اور نازک دور سے گزر رہا ہے کیونکہ کووڈ۔19 مرحلہ 2 اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکا ہے اور ملک میں متاثرین و مرنے والوں کی تعداد میں بھیانک انداز میں اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی و ریاستی حکومتیں کورونا پر قابو پانے کی بھرپور کوششوں کا دعویٰ کررہی ہیں لیکن کورونا سے نمٹنے میں مرکزی حکومت کے غیرموثر اقدامات بے نقاب ہوچکے ہیں جس کا اندازہ شرح اموات میں اضافہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ملک بھر کے دواخانوں میں بستروں، آکسیجن، ٹسٹ کروانے کی سہولتوں اور ادویات کی قلت پائی جاتی ہے اور اس طرح کی شدید قلت سارے ملک میں تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
متاثرین اور ان کے ارکان خاندان میں جہاں بڑے پیمانے پر رنج و الم کا احساس پایا جاتا ہے، وہیں آج ساری قوم حکومت کے ناقص نظم و ناقص منصوبہ بندی کا بڑی پریشانی کے عالم میں مشاہدہ کررہی ہے۔ حکمرانوں پر عوامی برہمی اور تنقیدوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کے لئے ایک نیا لفظ ’’سسٹم‘‘ سامنے آیا ہے۔ یہ حکمران تنقیدوں سے بچنے اور عوام و اپوزیشن ، حکمرانوں پر تنقیدوں کیلئے اس لفظ کا استعمال کررہے ہیں اور اب کہا جارہا ہے کہ بستروں آکسیجن ٹسٹوں کی سہولتوں اور ادویات کی قلت کیلئے مسٹر مودی ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ سسٹم ذمہ دار ہے۔
اگر دیکھا جائے تو ہمارے حکمرانوں میں سائنٹفک مزاج کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ہمارے یہاں بے شمار مثالیں ہیں، مثال کے طور پر ہمارے حکمرانوں نے ایسے بیانات جاری کئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ہم کورونا وباء پر اندرون 21 یوم قابو پائیں گے۔ بعض قائدین نے تو عقیدت مندوں پر زور دیا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر حصہ لینے کیلئے کمبھ میلہ میں جمع ہوں اور بعض سیاسی قائدین نے بڑے بڑے انتخابی جلسے عام منعقد کئے اور ان جلسوں میں فیس ماسک پہننے اور سماجی فاصلے اختیار کے اصولوں کی دھجیاں اُڑا دیں۔
دوسری طرف سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک نہیں بلکہ دو ہائیکورٹس نے الیکشن کمیشن کو کورونا وائرس کے خطرناک حد تک پھیلنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے برعکس ایسی کہانیاں بھی ہیں جہاں امن و ہم آہنگی اور پابندیاں ہونے کے واقعات منظر عام پر آئے۔ مثال کے طور پر کورونا کے خلاف لڑائی میں مصروف کورونا جنگجو کی تعریف کی جانی چاہئے۔ وہ انتہائی نامساعد حالات میں کام کررہے ہیں۔ ملک میں ایسے بے شمار مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں جہاں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں اور حقیقت میں ہندو۔ مسلم اتحاد ہی ہمارے ملک کے حقیقی اقدار ہیں۔
ایسے مقامات پر جہاں مسلمانوں کو کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ اب ان مسلمانوں کو دوسرے شہری اپنے ہمدردوں، مددگاروں، غمگساروں کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔ مسلمان کے دکھ درد بانٹنے اور کورونا المیہ کے خاتمہ میں مدد کیلئے آگے آرہے ہیں۔ اگر ہم کورونا کے باعث ملک میں پھیلی تباہی انسانوں جانوں کے اتلاف کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا تقابل صرف ملک کی تقسیم کے دوران ہوئی ہجرت سے ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ ملک کی تقسیم کے دوران بھی انسانیت نے دلوں کو دہلا دینے والے مناظر کا مشاہدہ کیا۔
اس وقت بھی نقل مکانی کرنے والے غریبوں اور مزدوروں کو اپنی جانیں جوکھم میں ڈالنے پڑے تھے اور اب بھی نقل مکانی کرنے والے مزدوروں، غریب خاندانوں بلکہ متوسط و امیر خاندانوں کو بھی اپنی جانیں جوکھم میں ڈالنی پڑی اور حکمران اپنا منہ پھیر رہے ہیں۔ ذمہ داریوں کی انجام دہی سے گریز کررہے ہیں۔ ان کی حکمرانی میں پائی جانے والی غلطیوں اور نقائص کو دور کرتے ہوئے وہ سنجیدہ کوششیں بھی نہیں کررہے ہیں اور ان حالات میں ساری دنیا ہندوستان میں بگڑتے حالات اور کورونا کے باعث پیدا شدہ سنگین صورتحال کا حیرت سے مشاہدہ کررہی ہے۔
آکسیجن کی قلت نے ہمیں دہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ ہم بلند قامت مجسموں، سنٹرل وسٹا پراجیکٹس اور مندر پر اپنے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ خرچ کرتے جارہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کیرالا ایک چھوٹی سی ریاست ہے اور اس نے مرکز سے کہیں زیادہ رقم آکسیجن پلانٹس کی تنصیب پر صرف کی ہے اور آج وہ پڑوسی ریاستوں کو آکسیجن سپلائی کرنے کے قابل ہوچکی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کورونا کی تباہی و بربادی کے درمیان جو المناک کہانی کا متوازی پہلو ہے، وہ مسلمانوں کو کورونا کے نام پر بدنام کرنا ہے۔
مارچ 2020ء میں تبلیغی جماعت کا ایک عالمی اجتماع مرکز نظام الدین میں منعقد ہورہا تھا ۔ جس کے خلاف کافی بکواس کی گئی۔ ویسے بھی ہندوستان میں فرقہ وارانہ سیاست نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اور اسی فرقہ وارانہ سیاست کے ذریعہ مسلمانوں میں ڈر کی کیفیت پیدا کی جارہی ہے اور اس کے لئے خاص طور پر قرون وسطیٰ کی تاریخ اور دیگر پہلوؤں جیسے لو جہاد، ایک سے زائد شادیوں، گائے کے گوشت، شرعی قوانین، بڑے خاندانوں، مسلمانوں کے عالمی دہشت گرد گروپس سے تعلقات وغیرہ جیسی بے بنیاد باتوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ تبلیغی جماعت کے اجتماع سے بھی سارے ہندوستان کو ڈرایا گیا۔
ایک طرف فرقہ پرست تنظیموں کے تنگ ذہن و تنگ نظر لیڈر ہیں تو دوسری طرف متعصبانہ و جانبدارانہ میڈیا بھی ان کے خلاف کام کررہا ہے۔ میڈیا نے اور فرقہ پرستوں نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کو کورونا کے نام پر بدنام کیا جبکہ اس نے ٹرمپ کے دورہ کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان جلسے ’’نمستے ٹرمپ‘‘ کے ساتھ ساتھ کنیکا کپور اور دیگر کے دوروں کو بالکلیہ طور پر نظرانداز کردیا۔
ان فرقہ پرستوں نے نہ صرف کورونا جہاد جیسے لفظ منظر عام پر لائے بلکہ کورونا بم جیسے اصطلاحات کی میڈیا کے اختراعی گوشے میں رونمائی انجام دی اور حد تو یہ ہے کہ میڈیا کے ایک گوشہ نے مسلمانوں میں جہاد کے کئی اقسام کو دریافت بھی کیا۔ سنٹر فار اسٹیڈی آف سوسائٹی اینڈ سکیولرازم نے ہندوستان میں مسلمانوں کو ’’بلی کا بکرا‘‘ بنانے سے متعلق ایک جامع رپورٹ ’’کووڈ وباء‘‘ پیش کی جس میں مسلمانوں کے خلاف کئے گئے مختلف پروپگنڈوں کی ایک فہرست پیش کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہاد لفظ کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔مثال کے طور پر ان لوگوں نے جہاں لو جہاد جیسے لفظ کا استعمال کیا وہیں اقتصادی جہاد کی اصطلاح منظر عام پر لاکر کاروبار و تجارت کو بھی مذہبی خطوط پر باٹنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی ہسٹری جہاد کی اصطلاح استعمال کرکے تاریخ مسخ کرنے کے اقدامات کئے۔ اسی طرح میڈیا جہاد، فلم جہاد، سکیولرازم جہاد، آبادی جہاد ، خود کو متاثر ظاہر کرنے کا جہاد وغیرہ جیسی اصطلاحات کو مسلمانوں سے جوڑ دیا اور بتایا کہ مسلمان ہسٹری جہاد کے ذریعہ تاریخ کو اسلام کے حق میں پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
میڈیا جہاد کے ذریعہ اسلام کے حق میں لہر پیدا کی جارہی ہے۔ فلمی جہاد کے ذریعہ مغلوں اور مافیاؤں کو پروقار انداز میں پیش کرنے کی وکالت کی جارہی ہے۔ سکیولرازم جہاد کے ذریعہ بائیں بازو کے عناصر، کمیونسٹوں اور آزاد خیال شخصیتوں کی مدد لی جارہی ہے۔ پاپولیشن جہاد کے ذریعہ آبادی بڑھانے کی خاطر چار بیویوں کے اصول پر عمل کیا جارہا ہے۔
لینڈ جہاد کے ذریعہ مساجد، قبرستان اور مدارس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ عربی کو فروغ دینے تعلیمی جہاد کیا جارہا ہے۔ خود کو متاثرہ قرار دینے کی خاطر جو جہاد شروع کیا گیا، اس کے ذریعہ تحفظات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح راست جہاد کے ذریعہ غیرمسلموں کے ذریعہ راست مسلح کارروائی کی سفارش کی جارہی ہے۔ بی جے پی کا آئی ٹی سیل اور بی جے پی زیراقتدار ریاستوں کے چیف منسٹرس جیسے چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی نے بھی گجرات میں کورونا پھیلانے کیلئے تبلیغی جماعت کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔



