
ایسے افراد کووزیر بنانے کے پیچھے وزیراعلیٰ کی کیامجبوری ہے ؟:تیجسوی یادو
پٹنہ (اردودنیا.اِں)وزیراعلیٰ نتیش کمارکے کابینہ میں 64 فیصد وزراء کے اوپر سنگین جرائم کے معاملے درج ہیں ۔یہ کیسا سوشاشن ہے جس میں داغی وزراء ہی اقتدار چلارہے ہیں ۔ان سنگین جرائم والے لوگوں کووزیر بنانے کے پیچھے ان کی کیا مجبوری ہے لوگوں کے سامنے انہیں رکھنی چاہئے ۔
وزیراعلیٰ نتیش کمار بدعنوانی کے الزامات کاسامناکررہے میوہ لال چودھری اور اشوک چودھری جیسے لوگوں کو وزیر بنانے سے ایک منٹ کیلئے بھی ہچکچاتے نہیں ہیں۔
ایک وزیرجن کے اوپرجعلسازی کا مقدمہ بھی ہے وہ گزشہ نومہینے سے کسی ایوان کے بھی ممبر نہیں ہیں،وزیر بنے بیٹھے ہیں۔ تعجب کی بات تو یہ ہے جنہیںان کیخلاف جانچ کودھاردے کران کیخلاف فوری کارروائی کی جانی چاہئے وہیں انہیںسرآنکھوں پر بیٹھاکر متاثرہ محکمہ کی لگام تھمارہے ہیں ۔
وزیراعلیٰ کوپتہ ہی نہیں ہے کہ کون وزیر اور ان کے خاندان کب سرکاری پروگرام کاافتتاح کررہے ہیں ۔ان کے وزیر کے اسکول کے احاطہ سے شراب برآمد ہوتی ہے لیکن ان پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی ،اس کاجواب توانہیں دیناچاہئے۔وزیراعلیٰ شراب کے استعمال کے مسائل کوایک سماجی برائی کے بجائے قانون اور نظم ونسق کے مسائل کی طرح دیکھتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ شراب بندی کے سبب ریاست میں دیگر کئی مسائل کی شروعات ہوئی ہے جن کانپٹارا کرنے کے بجائے حکومت انہیں جھٹلانے میں لگی رہتی ہے ۔آج بہارمیں شراب کاکاروبار کرنا سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار بن گیا ہے ۔ پڑھے لکھے اور بے روزگار نوجوان تیزی سے اس کاروبار کی جانب سے بڑھ رہے ہیں ۔ محصولات کے نقصان اور مافیا ئوں لگاتاربڑھتی طاقت کے آگے قانون اور نظم ونسق بالکل نظر نہیں آتی۔
انڈیااسپنڈنامی ادارہ کے مطابق 30لاکھ لیٹر سے زیادہ کی شراب پکڑی گئی ہے ۔اسی سے اندازہ لگایاجاسکا ہے کہ کتنے کروڑ لیٹر کی شراب بہارمیں غیرقانونی طور سے لوگوںتک پہنچ چکی ہوگی۔لیکن پولیس افسران کوبرخواست کیاگیا؟مئی2017میں بہار پولیس نے دعویٰ کیاتھاکہ 9لاکھ لیٹر شراب بہارمیں چوہے پی گئے کیاایسا ممکن ہے ؟۔
2020میںجدیو کے ریاستی نائب صدر کاشراب پی کر ناچنے والا ویڈیو وائرل ہوا تھا۔جدیو ممبران اسمبلی کے شراب پی کرناچنے کے کئی ویڈیو وائرل ہوچکے ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔ شراب بندی قانون کی سب سے زیادہ ماردرج فہرست ذات کے لوگوں کو پڑی ہے جن میں بہار میں سب سے زیادہ غریبی ہے ۔
یہ لوگ جرمانہ یا ضمانت کی رقم بھرنے کی حالت میں بھی نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان خاندان ہمیشہ کیلئے پوری طرح سے برباد ہوجاتا ہے ۔اس پر وزیراعلیٰ کو توجہ دینی چاہئے اور قصور واروں کو سزا دینی چاہئے۔



