نیویارک ، 10جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کووڈ 19 کی وبا نے دنیا بھر میں انسانوں کو اتنا بے بس کر دیا کہ زندگی بچانے کے سب سامان دھرے رہ گئے۔ اب ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصے کے بعد تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 40 لاکھ سے زیادہ لوگ موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ابھی یہ سلسلہ رکا نہیں،کرونا وائرس کے نئے ویرئنٹ سامنے آ رہے ہیں اور خطرات ابھی باقی ہیں۔مگر موت کے بعد کے اثرات بھی کچھ کم پریشان کن نہیں۔
خاندانوں کے خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ اور بعض گھروں میں تو صرف بچے ہی باقی رہ گئے جو یا تو ماں باپ میں سے کسی ایک سے محروم ہوئے ہیں یا ماں باپ دونوں ہی کے چلے جانے کے بعد بالکل بے سہارا ہو گئے۔یہ وہ المیہ ہے جو دنیا بھر میں بڑے شہروں میں، چھوٹے چھوٹے گاؤں میں، بھارت کی ریاست آسام سے لے کر امریکی ریاست نیو جرسی تک۔ ہر مقام پر موجود ہے۔
کرونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس سے بچاؤ کی ویکسین کا دنیا نے شدت سے انتظار کیا۔ اب کئی طرح کی ویکسینز دستیاب ہیں اور لوگوں کو لگائی بھی جا رہی ہے، مگر پھر بھی موت کا سلسلہ رکا نہیں۔ اس وائرس کے نئے ویرئنٹ بہت سے ملکوں میں اب بھی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
کووڈ 19 سے مرنے والوں کی تعداد کے تازہ ترین اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس ہفتے یہ تعداد انتہائی المناک حد تک پہنچ گئی ہے۔اسی ہفتے جنوبی کوریا میں ایک روز میں سب سے زیادہ انفیکشنز سامنے آئے ہیں اور انڈونیشیا نے وبا کے دوران ایک روز میں سب سے زیادہ اموات کا سامنا کیا ہے۔موت المیہ ہے مگر شاید بچوں پر اس کے اثرات سب سے زیادہ ہوتے ہیں، اور اس صورت میں تو اور بھی زیادہ جب ان کے ماں باپ میں سے کوئی ان کے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو جائے۔
وکٹوریہ ایلزبتھ سوتو کی پیدائش تین ماہ پہلے ہوئی۔ لیکن اس کی پیدائش سے چھ روز بعد اس کی ماں #ایلزبتھ سوتو #ارجنٹائن کے ایک #اسپتال میں کووڈ 19 سے انتقال کر گئیں البتہ وکٹوریہ انفیکشن سے محفوظ رہی۔اس کے والد ڈئیگو رومن کہتے ہیں وہ اپنا غم تو برداشت کر رہے ہیں مگر اپنی بیٹی کو کیسے بتائیں گے کہ اس کی ماں کون تھی؟کہاں گئی؟مگر شاید کوئی تصویر اس بچی کو ماں کی صورت دکھا سکے۔بتا سکے کہ وہ تین برس کی آرزؤوں کے بعد پیدا ہوئی اور اس کی ماں کا ماں بننے کا سپنا پورا تو ہوا مگر پنپ نہ سکا۔
دنیا کے دیگر حصوں کی طرح افریقی ممالک میں بھی کرونا وائرس نے بچوں سے ان کے ماں باپ جدا کر دیئے۔شمو لوگو بونولو 8برس کی تھی جب جولائی 2020 میں اس کے والد کووڈ 19 کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ سال بھر سے وہ ان کے بغیر زندگی گزارنے کی کوشش کر رہی ہے مگر قدم قدم پر باپ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ پہلے تو ابا سکول چھوڑ کر آتے تھے اب بس سے جانا پڑتا ہے۔



