قومی خبریں

ٹریفک لائٹ سے کیمرہ ہٹانے کولے کر دی درخواست، ہائی کورٹ نے لگایا جرمانہ

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز ایک مفاد عامہ کی عرضی خارج کردی جس میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے ریڈ لائٹ پر نصب کیمرے کو ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے درخواست گزار پر جرمانے لگاتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور انتشار پھیلنے کا سبب بنے گا۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جسسمیت سنگھ کی بنچ نے درخواست پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار پر 2500 روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

درخواست میں ٹریفک لائٹس میں قواعد کی خلاف ورزی پر جاری چالان بھی ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ کیمرہ مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اسے لگانے سے نہیں روکا جاسکتا کیونکہ اس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس سے انتشار پھیل جائے گا۔

قانون کے آخری سال کے طالب علم نے اس درخواست میں استدلال کیاتھا کہ کیمرہ لگے ہونے سے ریڈ لائٹ پر ایمبولینس کے سامنے کھڑی گاڑی کے آگے نہ بڑھنے کی وجہ سے ایمبولینس پھنسی رہتی ہے اور گرین لائٹ کا انتظار کرنے سے مریض کا قیمتی وقت ضائع ہوتاہے۔درخواست میں دلیل دی گئی کہ اگر ٹریفک لائٹس سے کیمرہ نہیں ہٹایا گیا تو اس سے زندگی کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا اور یہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت صحت کے حق کے خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button