ٹریکٹر مارچ میں زخمی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کا احتجاج ، کاروائی کا مطالبہ

نئی دہلی: ( اردودنیا.اِن)دہلی پولیس کے ریٹائرڈ اور موجودہ افسران ، ملازمین اور ان کے اہل خانہ نے دہلی میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں کے ٹریکٹر مارچ کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے ،تشدد پٹائی کیخلاف شہیدی پارک میں احتجاج کیا اور حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔خیال رہے کہ تشدد میں 394 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں ، ان میں سے بیشتر اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔
احتجاج کرنے والے ہیڈ کانسٹیبل اشوک کمار نے بتایا کہ میں لال قلعے پر ڈیوٹی پر تھا، میں قلعہ کے گیٹ پر تعینات تھا۔ہم اس ہجوم کو باہر لا رہے تھے ،جواندر داخل ہوا تھا ، مگر اس نے ہم پر حملہ کردیا ، اور وہاں اپنا مخصوص پرچم لہرادیا۔ مبینہ طور پر ان کے پاس لاٹھیاں اور تلواریں تھی، میرے سر اور پیروں میں چوٹ لگی ہے۔
اسی دوران ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل سنیتا نے بتایا کہ میں مقربہ چوک پر تعینات تھا۔ ڈی سی پی-اے سی پی بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے مظاہرین سے بات کی اور ان سے ٹریکٹر پریڈ کے لئے طے شدہ روٹ پرجانے کو کہہ رہے تھے ، لیکن وہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے رکاوٹوں کوبھی توڑ ڈالا،اس بے قابو ہجوم نے ہم پر اور گاڑیوں پر بھی حملہ کیا۔
ہمیں اس کا گمان نہیںتھا،کہ وہ ہم پر بھی حملہ کردیں گے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ کسانوں کی ’’جے کار ‘‘ لگاتے رہیں گے ، جوانوں کے لئے بھی ’جے کار‘ ہے ۔ پولیس اہلکار بھی انسان ہیں اور بیشتر پولیس اہلکار کسان خاندانوں سے آتے ہیں۔خیال رہے کہ دہلی پولیس نے منگل کے روز ہونے والے تشدد کے لئے راکیش ٹکیت ، یوگیندر یادو ، راجندر سنگھ ، میدھا پاٹکر ، بوٹا سنگھ ، درشن پال اور بل بیر سنگھ راجیوال سمیت 37 کسان رہنماؤں کے خلاف سمے پور بادلی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کیا ہے۔



