
پشاور، ۲۰؍جنوری (ایجنسی) خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں مقیم خواجہ سراؤں میںایچ آئی وی کے کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر صوبائی حکومت نے ان خواجہ سراؤں کے سروے اور طبی معائنے کے علاوہ دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لیے تین سالہ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں سروے کے دوران 33 خواجہ سراؤں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ خواجہ سراؤں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیوں کہ ایک تو تمام خواجہ سراؤں کی اسکریننگ اور ٹیسٹ نہیں ہوئے جب کہ متاثرہ خواجہ سرا یا دیگر افراد یہ بتانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم تنظیم کے رْکن تیمور کمال نے بتایا کہ زیادہ تر خواجہ سراؤں کے ساتھ ان کے خاندان والوں یا دیگر رشتہ داروں نے قطع تعلق کیا ہوتا ہے۔ اسی لیے ان لوگوں کو رہائش اور زندگی بسر کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ انہی حالات میں اگر یہ لوگ دوسروں کو ایڈز کے مرض کے بارے میں معلومات فراہم کردیں تو پھر ان کو رہائش کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام کے مطابق اگر کسی بھی خواجہ سرا کی ایڈز سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو جائے تو اسے نہ صرف علاج معالجے بلکہ کھانے پینے کی اشیا بھی فراہم کی جاتی ہے۔
تاہم انہیں رہائش فراہم کرنا بہت ضروری ہے کیوں کہ رہائش ملنے سے ان کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔تیمور کمال کے مطابق رہائشی ضروریات اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے خواجہ سرا ناچ گانے اور دیگر تقریبات میں شرکت کرتے ہیں جب کہ بعض جنسی بے راہ روی کی طرف چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں ایڈز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے عہدے دار رشید تاج نے بتایا کہ ابھی تک خیبر پختونخوا کے مختلف آٹھ سرکاری اسپتالوں میں ایڈز کی تشخیص اور اسکریننگ کے لیے مراکز قائم ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ 2023 تک صوبے میں ان مراکز کی تعداد 13 تک بڑھ جائے گی۔



