بین ریاستی خبریں

پربھنی : فیم ایک مشن،جو قوم میں سماجی تبدیلی لانا چاہتی ہے، ڈاکٹر فوزیہ خان

 متسیودری  کالج جالنہ میں فیڈریشن آف مائناریٹی ایجوکیشنل آرگنائزیشن فیم کے کارکنان و ذمہ داران کا یک روزہ کامیاب اجلاس منعقد

پربھنی (سید یوسف ) زمانہ بڑی برق رفتاری سے جدیدیت کی جانب گامزن ہے تو ملک کا تعلیمی نظام بھی دنیا کی ترقی میں کارگر ثابت ہو رہا ہے ۔تعلیم کے جدید چیلنجوں کو مہارت کے ساتھ بحسن خوبی ادا کرنے کے لئے ہمیں محنت شاقہ سے گزرنا پڑے گا۔
وہی  ملک و ملت  اور سماج کی بہتری و خوشحالی کے لئے ہمیں اپنے قیمتی وقت کی زکوٰۃ دینی ہوگی۔اس طرح کا اظہار خیال سابق وزیر و رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر فوزیہ تحسین خان نے متسیودری کالج جالنہ میں منعقدہ فیڈریشن آف مائناریٹی ایجوکیشنل آرگنائزیشن فیم کارکنان و ذمہ داران کا یک روزہ اجلاس سے کہی ۔
یہ اجلاس صبح گیارہ بجے سے دوپہر دو بجے تک جاری رہا۔ ڈائس پر فیم کے ریاستی صدر تحسین احمد خان، شبیر شاکر، ممبئی، شازیہ شیخ، این سی پی ضلع  صدر نثار دیشمکھ، انجینیر خالد سیف الدین ،محمد تقی سر، ناندیڑ ،ایس وی رضوی ،غلام محمد مٹھو، ایڈوکیٹ پٹھان، فیم کے ٹیچر سیل کے ریاستی کوآرڈینیٹر سید یوسف سید موسی، فاروق علی خان، آصف حسین انصاری و عہدیداران موجود تھے – 
اس موقع مہمانان خصوصی اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فیم کے خدوخال کو وسعت دیتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ تحسین خان نے مزید رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ ہم فن ادب اور تہذیب کو فروغ دینے اور اسکی باز یابی کے لیے کوشاں رہے گے ۔ریاستی سرکار اقلیتیوں کے اسکیمات کو فروغ دیتی ہے لیکن اقلیتیوں بالخصوص مسلمانوں کی جانب سے قبرستانوں کی تجدید اور اسکی تزئین کاری کے پروپوزل کی کثرت سے پیش کئے جاتے ہے یا پھر اسکالرشپ کے مسائل کو پیش کرنے میں فوقیت دی جاتی ہے –
جبکہ ریاست میں پرائمری تعلیم مفت دی جاتی ہے ۔فیم چاہتی ہے کہ پورے ریاست مہاراشٹر میں اردو گھروں کی تعمیر کی جائے تاہم مالیگاؤں اور ناندیڑ میں تعمیر اردو گھروں کی حالت زار دیکھ کر حکومت الٹا ہمیں سے سوال کرتی ہیکہ نئے اردو گھر کی تعمیر سے قبل تعمیر شدہ اردو گھروں کی ہی عمدہ نگہداشت کر لے تو صحیح ہوگا۔ہم کسی پر تنقید نہیں کر رہے ہے –
افراد نے مخالفت کے آداب سمجھنا چاہیے۔انصاف ،فروغ تعلیم اور ترقی کے لئے فیم کے کارکنوں نے کمر کس لینا چاہیے۔اجلاس کے درمیان جمیل احمد سر اورنگ آباد ،ڈاکٹر عفوان خان ،ضلع صدر ،پربھنی ، ،سہیل سوداگر، جالنہ ،محمد صفی انور، بیڑ، قاضی معیز بشیر، لاتور، سعید قادری، عثمان آباد، ایڈوکیٹ ایم اے عقیل ہنگولی اور پربھنی اضلاع کے صدور کے اعلانات اور انکا استقبال کیا گیا۔ ساتھ ہی فیم کے طریقہ کار پر مفصل رہنمائی کی گئی ہے – فیم نے اس میقات کے لئے سالانہ منصوبہ بندی  جاری کیا گیا –
جسمیں سال بھر انجام دئیے جانے والے کاموں اور نشستوں کے اہتمام کے علاوہ اقلیتی اداروں کی فہرست اور ان کو درپیش پریشانیاں کو نہ صرف جمع کرنے بلکہ پوری طاقت سے حل کرنے کی ہدایات د ی گئی۔اس تقریب کے دوران  ٹیچر سیل اسپورٹس سیل  ،خواتین سیل ،اساتذہ کی جدید تربیت،طلبہ مقابلہ تہذیبی ورثہ و دیگر کمیٹیوں کو تشکیل دیا گیا اور انکے عہدیداران کی گلپوشی کی گئی۔ساتھ ہی مقامی اداروں کے ذمہداران کی بھی گلپوشی کی گئی ۔نظامت کے فرائض انجینیر خالد سیف الدین ریاستی سیکرٹری فیم نے انجام دیئے –
جبکہ اظہار تشکر نثار دیشمکھ نے انجام دیئے ہیں – اس ایک روزہ فیم کے تقریب میں پربھنی، ناندیڑ، بیڑ ،جالنہ ،اورنگ آباد، عثمان آباد، لاتور اور ہنگولی سے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کے علاوہ اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی – اس موقع پر سہیل سوداگر سر کو جالنہ ضلع فیم کا ضلع صدر نامزد کیا گیا – جس پر تمام ہی افراد نے ان کو مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے –

متعلقہ خبریں

Back to top button