پربھنی میں میڈیکل کالج کی منظوری لانا میری اولین ترجیح میں شامل ہے – ڈاکٹر فوزیہ خان
پربھنی : (سید یوسف) پربھنی میں میڈیکل کالج کی منظوری کے لئے ہم مسلسل کوشش میں لگے ہوئے ہیں – تاہم اس بار ہم اس منظوری کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں – پربھنی میں ضلع سرکاری اسپتال میں سات سو بیڈ کا دواخانہ ہوتے ہوئے ہمیں منظوری نہیں ملنا – یہ تعجب خیز بات ہے – ہم اس کام کے لیے مسلسل کوشاں ہیں – ہم اس تحریک کو گزشتہ دس سال سے چلا رہے ہیں – پربھنی کے ضلع سرکاری اسپتال میں ساری سہولیات ہونے اور جگہ کا نظم ہونے کے بعد بھی پربھنی میں میڈیکل کالج کی منظوری اب تک نہیں ملی ہے –
تاہم اس بار 28 فروری تک پروپوزل کے زریعے منظوری حاصل کر کے ہی رہینگے – اس طرح کا اظہار خیال ڈاکٹر فوزیہ تحسین خان نے پربھنی کے ڈاکٹرس تنظیم انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا – اس موقع پر ڈائس پر سابق رکن اسمبلی وجے گوہانے، رامیشور شندے،ڈاکٹر کالانی،ڈاکٹر حامد الکریم، ڈاکٹر بھوسلے، ڈاکٹر ہارون رشید تانبولی، ڈاکٹر وانکھیڑے،ڈاکٹر اومنوار، محبوب پٹھان، سید رفیق و دیگر موجود تھے –
اس موقع پر ڈاکٹر فوزیہ خان نے اپنے خطاب کہا کہ پربھنی ضلع کے ساتھ مسلسل نا انصافی ہو رہی ہے – ہم سے پہلے علاقہ مرہٹواڑہ میں عثمان آباد اور ہنگولی ضلع کے لیے نئے میڈیکل کالج کی منظوری کا اعلان کیا جا چکا ہے – لیکن پربھنی میں میڈیکل کالج کی منظوری اب تک نہیں دی گئی ہے -جب کہ ہمارا مطالبہ بہت قدیم ہے –
جس کے لیے اب ہم یہ تحریک کو پوری شدت سے چلائنگے- میڈیکل کالج کی منظوری سے پربھنی میں دس ہزار لوگوں کو روزگار ملیگا- انہوں نے مزید کہا کہ ایڈمنسٹریشن اور سیکریٹیٹ میں اب اس کام کے حل کے لیے ہم پوری طرح سے جٹ جائینگے – اس طرح کا خطاب ڈاکٹر فوزیہ خان نے کیا ہے –
اس موقع پر سابق رکن اسمبلی وجے گوہانے، ڈاکٹر حامد الکریم، ڈاکٹر رشید تانبولی، ڈاکٹر بھوسلے و دیگر ڈاکٹرس نے بھی میڈیکل کالج کی منظوری کے لئے پر مغز خطاب کیا اور میڈیکل کالج کی منظوری کے لئے ڈاکٹر فوزیہ خان کو ہر ممکن تعاون کرنے کی پیشکش کی – اس موقع پر ڈاکٹرس کے علاوہ معززین شہر موجود تھے – آخر میں میڈیکل کالج کی منظوری کے لئے زوردار نعرے بازی کی گئی اور کالج کے منظوری کے لئے ہر ممکن تحریک چلانے میں حصہ لینے کا مصمم ارادہ ظاہر کیا –




