پربھنی شہر مجلس بلدیہ عظمیٰ میں پرچم کشائی کے بعد بی جے پی اقلیتی سیل کے ورکر کی خودسوزی کی کوشش
پربھنی (سید یوسف) پربھنی شہر مجلس بلدیہ عظمیٰ کے احاطے میں میں میئر انیتا سونکامڑے کے ہاتھوں پرچم کشائی عمل میں آئ – بعدازاں بلدیہ عظمیٰ کے احاطے میں بی جے اقلیتی سیل کے ایک سابق عہدیدار نے بلدیہ عظمیٰ میں غیر مستقل افسران اور ملازمین کو ان کے خدمات سے ریلیو کرتے ہوئے ان کی جگہ پر مستقل افسران اور ملازمین کے تقررات کرنے کا مطالبہ کیا تھا –
مذکورہ مطالبہ کو لیکر بی جی پی کے ورکر نے مجلس بلدیہ عظمیٰ میں پرچم کشائی کے بعد اپنے بدن پر پیٹرول چھڑک کر خود سوزی کرنے کی کوشش کی – تاہم وہاں موجود تحفظاتی دستہ نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے خودسوزی کے منصوبہ ناکام بنا دیا –
اس متعلق موصولہ اطلاعات کے مطابق درگاہ روڈ کے ساکن شاہد خان شمیم خان نے ماہ دسمبر میں ضلع انتظامیہ کو دو مرتبہ میمورنڈم پیش کیا تھا – جس میں ان کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر خود سوزی کرنے کا انتباہ بھی دیا تھا – شاہد خان نے دیے گئے مطالباتی میمورنڈم میں کہا تھا کہ وہ پربھنی مجلس بلدیہ عظمیٰ سے میعاد کی تکمیلی کرنے والے افسران اور ملازمین کو ریلیو کر دینے کا مطالبہ کیا تھا –
اسی طرح ان افسران اور ملازمین کی جگہ نئے مستقل تقررات کرنے کا مطالبہ کیا تھا – مذکورہ مطالبہ تکمیل نہ کرنے پر انہوں نے 26 جنوری یوم جمہوریہ کے روز خودسوزی کرنے کا اشارہ دیا تھا – جس کے سبب مذکورہ مطالبہ کی تکمیلی نہ ہونے پر انہوں نے بلدیہ عظمیٰ کے احاطے میں پیٹرول کی بوتل لیکر داخل ہوئے اور اپنے بدن پر پیٹرول کا چھڑکاؤ کردیا – اس موقع پر وہاں موجود تحفظاتی محافظ دستہ نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے خود سوزی کی کوشش کو ناکام بنا دیا -اس موقع پر شاہد خان کے پیٹرول سے بھیگے شرٹ کو نکال پھینک دیا گیا –
تب انہوں نے کمشنر مجلس بلدیہ عظمیٰ کے متعلق سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے میرے مطالبہ پر عمل آوری نہ کرنے پر کمشنر کو ذمہ دار قرار دیا – بعدازاں اس بات کی اطلاع پربھنی کے نیا مونڈھا پولیس اسٹیشن کو دی گئی – جس پر پولیس نے تحقیقات کے لئے انہیں اپنے تحویل میں لے گئی – اس موقع پر پربھنی شہر مجلس بلدیہ عظمیٰ کے احاطے میں میئر انیتا سونکامڑے کے ہاتھوں پرچم کشائی عمل میں آئی –
جبکہ اس موقع پر سابق وزیر و رکن اسمبلی سریش ورپوڑکر، ڈپٹی میئر بھگوان واگھمارے، کمشنر دیوی داس پوار، چئیرمین گلمیر خان، کے علاوہ دیگر کارپوریٹرس اور افسران و ملازمین موجود تھے – اس واقعہ پر مجلس بلدیہ احاطہ میں بہت دیر تک کھلبلی اور سراسیمگی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا –





