قومی خبریں

پردھان منتری غریب کلیان یوجناکافائدہ غریب لوگوں تک نہیں پہنچا :تحقیق میں ہواخلاصہ

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پردھان منتری غریب کلیان انا یوجنا شروع کرنے کے پیچھے مرکزی حکومت کا واحد ہدف یہ ہے کہ غریبوں کو مفت راشن مہیا کیا جائے تاکہ وہ وبائی بیماری کے وقت بھوک کے شکار نہ ہوں۔ اس اسکیم کو سال 2020 میں لاک ڈاؤن کے دوران شروع کیا گیا تھا تاکہ راشن اور ضروری چیزیں نچلے طبقے اور غریب لوگوں تک پہنچ سکیں۔

وہیں تیسری بار24 اپریل کو مرکزی حکومت نے اس وبا کی وجہ سے تقریبا 800 ملین افراد کو جوڑنے کیلئے پردھان منتری غریب کلیان انا یوجنا پروگرام دوبارہ شروع کیا ہے اور ماناجاتاہے کہ یہ اسکیم زیادہ لوگوں تک پہنچی ہے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ اسکیم لوگوں کے ایک بڑے حصے کو فائدہ پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔

عظیم پریم جی یونیورسٹی میں ملازمت مرکز نے ایک ریسرچ کیا، جس کے مطابق پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت صرف 27 فیصد اہل خاندانوں کو فائدہ ملاہے۔ دوسری طرف اقتصادیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر امیت باسول نے کہا ہے کہ ان کے سروے سے پتا چلا ہے کہ کل خاندانوں میں سے 68 فیصد کو کم از کم کچھ اضافی اناج ملے ہیں۔وزارت خوراک نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ قومی فوڈ سیکیورٹی ایکٹ کے تحت 800 ملین سے زائد مستفید افراد کو مئی اور جون 2021 کے دوران 5 کلو گندم یا چاول فری میں ملے گا۔

ساتھ ہی حکومت کو اس پروگرام پر 25332 کروڑ ڈالر خرچ کرنے ہوں گے۔ ساتھ ہی حکومت کا ماننا ہے کہ وہ اس اسکیم کو عملی جامہ پہنانے میں بہت کامیاب رہی ہے۔وزارت خوراک نے اس اسکیم سے متعلق ڈل برگ کے مطالعے کو آزاد قرار دیا ہے اور اسے مستفید ہونے والوں میں اعلی سطح کا اطمینان مانا ہے۔ اس دوران مرکزی فوڈ سکریٹری سدھانشو پانڈے نے کہا کہ یہ آزاد ہے کیونکہ وزارت خوراک اس میں شامل نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button