۱۰۰؍کروڑ فنڈجمع کرنےکیلئے وزیرداخلہ نے پولس افسران کااستعمال کیا
ممبئی(اردودنیا.اِن)ہوم گارڈڈائرکٹرجنرل پرم بیرسنگھ شایداپنی تذلیل کابدلہ لینے کیلئے ہاتھ پیرماررہے ہیں۔این ڈی ٹی وی کیلئے صحافی دیباتیش اکوم نے رپورٹنگ کرتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ پرم بیرسنگھ نے وزیراعلی کوروانہ کردہ ایک مکتوب میں وزیرداخلہ پرسنگین الزام عائدکئے ہیں۔پی بی سنگھ کاکہناہے کہ وزیرداخلہ انیل دیشمکھ نے ماہانہ ۱۰۰؍کروڑروپیہ آمدنی حاصل کرنے کیلئے سچن وازے،اسسٹنٹ کمشنر آ ف پولس سنجےپاٹل،وزیرداخلہ کے پرسنل سکریٹری پالندے،ڈپٹی کمشنرپولس بھجبل کے ساتھ اپنی سرکاری رہائش گاہ دیامنیشورپرکئی میٹنگیں کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان میٹنگوں میں وزیرداخلہ نے متعلقہ پو لس افسران کوحقہ پارلر،ریسٹورنٹ،باراوردیگرکاروباری اداروں سے کم ازکم ۵۰؍کروڑ روپیہ جمع کرنے کیلئے تعاون کی سفارش کی۔شکایت کنندہ نے انکشاف کیاکہ اس وقت کرائم برانچ کے انچارج وازے نے یہ بات خودان(پی بی سنگھ)سے ملاقات کے دوران بتائی ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق پی بی سنگھ نے یہ بھی بتایاکہ اٹیلیاکیس کے تعلق سے ورشاپرمنعقدہ ایک میٹنگ میں وزیراعلی ادھوٹھاکرے کووزیرداخلہ کی غلط حرکتوں سے واقف کرایاجاچکاہے۔
نیزنائب وزیراعلی، این سی پی صدرشردپواراوردیگرکئی وزراکے علم میں بھی یہ بات لائی گئی۔ذرائع کے مطابق پی بی سنگھ کاکہناہے کہ کئی وزرانے وزیر دا خلہ کے غلط کاموں سے واقف ہونے کااعتراف کیاہے۔موصولہ جانکاری کے مطابق وزیرداخلہ انیل دیشمکھ نے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیاہے۔اس درمیان خبروں کے مطابق سابق وزیراعلی فڈنویس نے انیل دیشمکھ کوکابینہ سے برطرف کرنے کامطالبہ کیاہے۔




