بین ریاستی خبریں

پنچ مسالی لنگائیت کو ریزرویشن دینے میں کوئی حرج نہیں :نیرانی

پنچ مسالی لنگائیت کو ریزرویشن دینے میں کوئی حرج نہیں :نیرانی

بنگلور: (اردودنیا.اِن) کرناٹک کے وزیر مورگیش نیرانی نے ہفتے کے روز کہاہے کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں پنچ مسالی لنگایتوں کو ریزرویشن دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ریاست میں ان میں سے بیشتر کی معاشی و معاشی حالت بہتر نہیں ہے۔لنگائیت طبقہ خودکوہندونہیں کہتاہے ۔اس کاباربارمطالبہ ہے کہ اسے الگ مذہب تسلیم کیاجائے اوردوسری اقلیتوں کی طرح اقلیت کادرجہ دیاجائے ۔

نیرانی نے کہاہے کہ کرناٹک میں کل ساڑھے 6 کروڑ آبادی میں سے پنچ مسالی 80 لاکھ کے قریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس برادری کوبااختیار بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے 90 فیصد ارکان زرعی شعبے میں ہیں اور تعلیم اور روزگار کے مواقع سے محروم ہیں۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں کوبتایاہے کہ اس برادری کو پسماندہ طبقے کی فہرست کے 2 اے زمرے میں شامل کرنے اور انہیں (15 فیصد) سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن دینے میں کوئی غلطی نہیں ہے۔

کرناٹک حکومت میں کانوں اور جیولوجی کے محکمہ میں وزیر نیرانی ، ریاست میں ریزرویشن کے خواہاں پنچسالی کے ایک بااثر رہنما ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ بی ایس یدیورپا اس برادری کو ریزرویشن دینے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ جب 2008 اور 2013 کے درمیان بی جے پی برسراقتدار تھی ، تو انہیں پچھڑے طبقات کی 2 اے قسم میں شامل کیا جانا تھا۔لیکن قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے اس برادری کو 3 بی زمرے میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے کہاہے کہ کسی کو یہ نہیں بھولناچاہیے کہ یہ یدیورپا نے کیا تھا۔ اگر کوئی رکاوٹیں نہ ہوتی تو اس وقت پنچ مسالی کو 2A زمرے میں شامل کیا جاتا۔تاہم وزیراعلیٰ نے حال ہی میں کرناٹک پسماندہ طبقات کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ لنگایت کی سماجی و اقتصادی حیثیت کا جائزہ لیں اور ایک رپورٹ پیش کریں۔نورانی نے کہا ہے کہ کمیٹی مطالعہ کرے گی اور رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے بعد حکومت فیصلہ کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button