بین ریاستی خبریںسرورق

 پولیس نے نامعلوم شخص کی نعش کو کاندھوں پر اٹھاکر تین کلومیٹر کا فاصلہ طئے کیا

Police carried the body of an unidentified man on their shoulders and covered a distance of three kilometers

وشاکھا پٹنم: (اردودنیا.اِن)پولیس کا ذکر آتے ہی زیادہ تر بالخصوص متوسط اور غریب طبقہ کےعوام کےذہنوں میں ظالم اورجابر کی شبیہ ابھرتی ہے کہ ان کی مارپیٹ اور گالی گلوچ سے دشمن بھی محفوظ رہے ۔نہیں ہر پولیس والا ایسا ہرگز نہیں ہوتا کئی مواقعوں پر پولیس نے اپنی کارکردگی کے ذریعہ عوام کا دل ہی جیتا ہے ، کہتے ہیں کہ عبادت گاہیں عبادات ،پوجاپاٹ کے اوقات میں ہی کھلی رکھی جاتی ہیں جبکہ پولیس اسٹیشن ایک ایسی جگہ ہے جس کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے ہیں ، نہ کبھی اس پر تالا لگتا ہے اور نہ اسکو چھٹی ہوتی ہے۔یہ پولیس کا خوف ہی ہوتا ہے کہ سماج میں جرائم کم ہوتے ہیں۔

پولیس والے بھی انسان ہی ہوتے ہیں انکے بھی وہی جذبات ہوتے ہیں جو ایک عام انسان کے ہوتے ہیں ، خدمات کے دوران سختی برتنا لازمی ہوجاتاہے، ایسے ہی چند پولیس ملازمین نے آندھرا پردیش کے وشاکھا پٹنم میں اس بات کو ثابت کردیاکہ وہ بھی انسان ہیں اور انسانیت کا درد وہ بھی رکھتے ہیںجب پولیس والوں نے سمندر کے کنارے دستیاب ایک نامعلوم شخص کی مسخ شدہ نعش کو تین کلومیٹر تک اٹھاکر اسے پوسٹ مارٹم کی غرض سے ہسپتال منتقل کیا

پولیس کے اس اقدام کی ڈی جی پی آندھرا پردیش کے ساتھ ہرکوئی ستائش کررہا ہے کہ زندہ لوگوں کو نظر انداز کردئیے جانے کے اس پرآشوب دور میں ان پولیس والوں نے نامعلوم نعش کو سمندر میں واپس پھینک دینے کے بجائے پوسٹ مارٹم کیلئے اپنے کاندھوں پر اٹھاکر ہسپتال منتقل کیا۔

وشاکھا پٹنم ضلع کے رام بیلی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر اور دیگر پولیس ملازمین نے اس انسانیت کا مظاہرہ کیا ہے تفصیلات کے مطابق سیتا پالیم سمند ر کے ساحل پر ایک نامعلوم شخص کی مسخ شدہ نعش جمعہ کے دن سمندر میں بہہ کر کنارے پر آگئی تھی۔رام بیلی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر پولیس ارون کرن نےاس سلسلہ میں ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے ریاست کے مختلف پولیس اسٹیشنوں کو اطلاع دی تھی تاہم ہفتہ تک بھی اس نعش کی شناخت کرنے یا اس کو حاصل کرنے کیلئے کوئی بھی رجوع نہیں ہوا ۔

مسخ شدہ نعش کو منتقل کرنے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں ہوا تو سب انسپکٹر پولیس ارون کرن نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس دورا، ہیڈ کانسٹیبل مسینو ، کانسٹیبل نرسنگا راؤاور ہوم گارڈ کونڈا بابو نے اس مسخ شدہ نامعلوم شخص کی نعش کو ایک چٹائی میں لپیٹ کر ، لکڑیوں پر باندھ کر خود اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہوئے سمندر کے ساحل سے تین کلومیٹر کا پیدل سفر کرتے ہوئےسیتا پالے تک لے آئے پھر وہاں سےنعش کو گاڑی میں لادکر یلا منچیلی کے مردہ خانہ کو منتقل کیا ۔

پولیس کے اس اقدام پر جہاں عوام کی جانب سے ستائش کی جارہی ہے وہیں ڈی جی پی آندھرا پردیش مسٹر گوتم سوانگ نے اپنے ماتحت عملہ کے اس انسانی مظاہرہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ” ملک بھر میں پولیس کی ایسی شبیہ پیش کرنے والے پولیس ملازمین کو میں سلام کرتا ہوں " ۔ ڈی جی پی نے سماجی اور انسانی خدمت کا پرچم بلندکرنے والے رام بیلی پولیس کوملازمین کو مبارکباد بھی دیتے ہوئے کہا کہ ایک مسخ شدہ نعش کو تین کلو میٹر طویل فاصلہ تک اپنے کاندھوں پر اٹھاکر ان ملازمین پولیس نے انسانیت کا پرچم بلند کیا ہے ۔

ڈی جی پی آندھرا پردیش مسٹر گوتم سوانگ نے کہا کہ رام بیلی پولیس اسٹیشن سے وابستہ عملہ کی جانب سے اس انسانی مظاہرہ کی پورا ملک تعریف وستائش کررہا ہے۔ڈی جی پی سب انسپکٹر رام بیلی پولیس اسٹیشن ارون کرن اورانکے ماتحت عملہ کو خصوصی مبارکبا د بھی پیش کی

متعلقہ خبریں

Back to top button