قومی خبریں

پٹرولیم مصنوعات اورمہنگائی پراپوزیشن نے ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دی

نئی دہلی:(اردونیا.اِن)ریل،پٹرول،ڈیزل،گیس،تیل،اشیائے خوردنی کی قیمتیں زبردست بڑھ رہی ہیں۔لاک ڈائون کی تباہ کاریوں سے عوام پریشان ہے اس پرمہنگائی کابوجھ ڈال دیاگیاہے۔اس مسئلے پرآج اپوزیشن پارٹیوں نے سرکارکوگھیراجس سے سرکاربھاگتی نظرآئی۔اپوزیشن پارٹیوں نے اس پرایوان چلنے نہیں دیااورراجیہ سبھاکی کارروائی ملتوی کرناپڑی۔پیرکوراجیہ سبھا میں کانگریس کے زیرقیادت اپوزیشن ممبروں نے مختلف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان بالا کا اجلاس چاربارکی معطلی کے بعدکل تک کے لیے ملتوی کردیاگیاہے۔

ملتوی

چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ انہیں اپوزیشن لیڈر ملکاارجن کھڑگے کی جانب سے دفعہ 267 کے تحت التوا کا نوٹس موصول ہوا ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر بات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔نائیڈو نے کہاہے کہ انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا ہے کیونکہ موجودہ سیشن میں تخصیصی بل پر تبادلہ خیال اور دیگر مواقع پر ممبران اس سلسلے میں اپنے خیالات پیش کرسکتے ہیں۔تاہم نائیڈو نے اپوزیشن لیڈر کو اس معاملے کو ایوان میں بھیجنے کی اجازت دی۔

کھڑگے نے پٹرول ، ڈیزل اور گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک سلگتاعنوان قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں بات چیت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پورے ملک کے لوگ مشتعل ہیں۔سینئر کانگریس قائد نے کہاہے کہ پٹرول کی قیمت تقریباََ 100 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے ، جبکہ ڈیزل کی قیمت 80 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے اسی طرح رسوئی گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔کھڑگے نے کہاہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز اور دیگر ٹیکس لگا کر 21 لاکھ کروڑ روپے اکٹھا کیا ہے ، جبکہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کسان اور عام لوگ پریشان ہیں۔کانگریس کے زیرقیادت اپوزیشن اس معاملے پر بحث کا مطالبہ کرتی رہی۔ لیکن چیئرمین نائیڈو نے اس پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی اور ایوان میں وقفہ سوال کا آغاز کیا۔

اس دوران حزب اختلاف کے اراکین کی ہنگامہ آرائی جاری رہی اورکچھ ممبران بھی قریب پہنچ گئے۔ایوان میں خلل پیدا ہونے پر اسپیکر نے اجلاس پیر کی صبح 10 بجے تک صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔ التوا کے بعدبھی جب اجلاس صبح 11 بجے شروع ہوا تو حزب اختلاف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر بات کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ لیکن ڈپٹی چیئرمین ہریونش نے کہاہے کہ چیئرمین اس سلسلے میں پہلے سے ہی اپنے انتظامات کر چکے ہیں اور اس پر دوبارہ غور نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہاہے کہ ممبروں کو مختلف وزارتوں کے کام اور تخمینی بل کے بارے میں تبادلہ خیال کے دوران اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع ملے گا۔اس پر قائد حزب اختلاف کھڑگے نے کہاہے کہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے گریزنہیں کیاجاسکتا۔ڈپٹی اسپیکر نے اراکین سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور ایوان کے کام کو چلنے دینے کی اپیل کی۔ لیکن یہ دیکھ کر کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ، انھوں نے اجلاس دوپہر ایک بجے تک گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔

دونوں بار ملتوی ہونے کے بعد اجلاس دوپہر ایک بجے شروع ہونے کے بعد بھی دو مرتبہ کارروائی 15 منٹ کے لیے ملتوی کردی گئی۔ڈپٹی چیئرمین وندنا چوہان نے سہ پہر اعلان کیاہے کہ ایوان بالا کی نشست منگل سے اپنے معمول کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوگی اور شام چھ بجے تک چلے گی۔ انہوں نے کہاہے کہ چیئرمین نائیڈو نے یہ فیصلہ مختلف پارٹیوں کے ممبروں کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا ہے۔اس اعلان کے بعد وندناچوان نے ایوان کودن بھرکے لیے ملتوی کردیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button