تلنگانہ کی خبریں

پی آر سی پر عمل میں تاخیر،سرکاری ملازمین ناراض، بی جے پی سرگرم

ٹی آر ایس کی تائید پر سرکاری ملازمین میں اختلاف رائے

تلنگانہ : (اردودنیا.اِن) اب جبکہ کونسل کی دو گریجویٹ نشستوں کی انتخابی مہم عروج پر ہیں ، سرکاری ملازمین کی تائید حاصل کرنے کے لئے تمام اہم جماعتیں سرگرم ہوچکی ہیں۔ امیدواروں کی تائید کے مسئلہ پر سرکاری ملازمین میں اختلافات ابھرچکے ہیں۔ پی آر سی پر عمل آوری میں تاخیر اور دیگر دیرینہ مطالبات کی عدم تکمیل کے سبب سرکاری ملازمین کا ایک گوشہ برسر اقتدار پارٹی کی تائید کے حق میں نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹی آر ایس کی تائید سے ملازمین کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا جبکہ دوسرے گروپ کا ماننا ہے کہ تائید کرتے ہوئے پی آر سی پر عمل آوری اور بہتر فٹمنٹ کے اعلان کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے داخلی اختلافات کو دیکھتے ہوئے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ یونینوں کی جانب سے کسی امیدوار کی باقاعدہ تائید کے بجائے عہدیداروں اور ملازمین کو اپنی پسند کی پارٹی کی تائید کا اختیار دیا جائے گا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں سرویس ووٹ بی جے پی کے حق میں پائے گئے تھے ، لہذا بی جے پی کو امید ہے کہ ایم ایل سی انتخابات میں اسے سرکاری ملازمین کی تائید حاصل ہوگی۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات سے قبل حکومت پی آر سی سفارشات پر عمل کرتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔ بائیں بازو جماعتوں سے ملحقہ ٹیچرس کی تنظیموں نے ابھی تک تائید کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ سی پی آئی اور سی پی ایم نے حیدرآباد نشست کیلئے پروفیسر کے ناگیشور راؤ کی تائید کا اعلان کیا جبکہ ان کی ملحقہ ٹیچرس اور دیگر تنظیموں کی جانب سے فیصلہ کا اعلان باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین اور ٹیچرس میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔

حکومت کو پیش کردہ پی آر سی رپورٹ میں 7.5 فیصد فٹمنٹ کی سفارش کی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین 43 فیصد کا مطالبہ کررہے ہیں۔ گزشتہ 6 برسوں میں ٹی آر ایس حکومت سے سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا جس کے نتیجہ میں ایم ایل سی انتخابات میں ان کی رائے مختلف دیکھی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button