
ڈبلیو ایچ او کا کورونا مریضوں کے علاج سے متعلق نیا طبی مشورہ

جینوا: (ایجنسی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منگل کے روز کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے بارے میں تازہ ترین طبی مشورے جاری کئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کورونا کے مریضوں میں صحت یاب ہونے کے بعد مستقل علامات ظاہر کرنے والے افراد شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ مریض کو ایسی دوا کی کم خوراک بھی دی جائے جو جسم میں خون کو جمنے سے روکے اور خون میں پھٹکیاں نہ بننے دے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے فراہم کی جانے والی رہنمائی میں جو دیگر نئی باتیں شامل ہیں، ان کے مطابق اگر کووڈ 19 کا کوئی مریض گھرمیں موجود ہو تو اس کے خون میں آکسیجن کی مقدار اور دل کی دھڑکن کی رفتار خصوصی آلے ’پلس آکزیمیٹر‘ کے ذریعے معلوم کی جانی چاہیے۔
خون میں آکسیجن ماپنے کے اس مخصوص آلے کی مدد سے آپ یہ جان سکیں گے کہ آیا مریض کی طبیعت خراب تو نہیں نیز یہ کہ کیا اس کو دیکھ بھال کے لیے اسپتال میں داخل کرانا ضروری ہے یا نہیںیہ بات ’ڈبلیو ایچ او‘ کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی بریفنگ کے دوران کہی ہے۔ مارگریٹ ہیرس نے مزید بتایا کہ عالمی ادارہ صحت نے ڈاکٹروں کو مشورہ دیا ہے کہ مریضوں کو پیٹ کے بل لٹا کر انہیں بیدار حالت میں رکھیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اس طرح مریض کے جسم میں آکسیجن کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ شریانوں میں خون کے جمنے کو روکنے کے لیے کم مقدار میں اینٹی کوآگولنٹ کا استعمال کرایا جائییہ دوا زیادہ خوراک کے بجائے کم مقدار میں استعمال کی جائے کیونکہ زیادہ مقدار میں خوراک دیگر مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے زیرقیادت آزاد ماہرین کی ایک ٹیم فی الحال وسطی چین کے شہر ووہان میں موجود ہے، جہاں دسمبر 2019 میں کورونا وائرس کے پہلے کیسز سامنے آئے تھے۔ ووہان میں موجود یہ ٹیم آئندہ دو روز کے اندر قرنطینہ سے باہر آجائے گی اور کورونا وائرس کی ابتدا کے حوالے سے چینی محققین کے ساتھ اپنے تحقیقی کام کو آگے بڑھائے گی۔



