بین ریاستی خبریں

ڈی ایل ایف رشوت معاملے میں سی بی آئی نے لالو یادو کو کلین چٹ دے دی: ذرائع

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بہار کے سابق وزیر اعلی اور آر جے ڈی رہنما لالو پرساد یادو کو سی بی آئی سے راحت ملی ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی تفتیشی بیورو نے سابق وزیر ریلوے کو ڈی ایل ایف رشوت معاملے میں کلین چٹ دے دی ہے۔ واضح رہے کہ لالویادوان دنوں ضمانت پر باہر ہیں ، اپریل میں انہیں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ضمانت دی گئی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے تقریبا تین سال جیل میں گزارے۔

ذرائع کے مطابق سی بی آئی کے اقتصادی کرائم براچ نے مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں جنوری 2018 میں لالو اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپر ڈی ایل ایف گروپ کے خلاف ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ لالو یادو پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے ڈی ایل ایف گروپ کو ممبئی باندرا اسٹیشن کو اپ گریڈ کرنے اور نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پروجیکٹ کو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ، جبکہ مبینہ رشوت کے الزام میں جنوبی دہلی کے ایک پوش علاقے میں جائیداد خریدکر دی تھی۔

اس الزام کے مطابق 5 کروڑ مالیت کا ایک فلیٹ اے بی ایکسپورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نامی ایک شیل کمپنی نے جنوبی دہلی کے نیو فرینڈس کالونی میں خریدا تھا۔ اس کمپنی کو لیکسس انفوٹیک پرائیوٹ لمیٹڈ اور دیگر شیل کمپنیوں کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی گئی تھی۔ ان کمپنیوں کو ڈی ایل ایف ہوم ڈویلپرز نے مالی اعانت فراہم کی تھی۔

جبکہ اصل سرکل ریٹ کی بنیاد پر اس پراپرٹی کی قیمت 30 کروڑ روپئے بتائی گئی تھی۔2011 میں لالو پرساد کنبے کے تیجسوی یادو ، چندا یادو اور راگنی یادو نے مبینہ طور پر اے بی ایکسپرٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے حصص کو صرف 4 لاکھ روپئے میں ٹرانسفر کردیا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ 5 کروڑ کی جائیداد کا مالک بن گئے تھے۔

تفتیشی ایجنسی نے اس معاملے میں دو افراد کا نام پروین جین اور امیت کاتیال کو بطور ثالث مقرر کیا تھا۔ ان دو افراد پر کمپنی اور لالو یادو کے درمیان خریداری ہوئی۔ دو سال کی تفتیش کے بعد اس معاملے کی تحقیقات بند کردی گئی ہیں کیونکہ الزامات کی بنیاد پر کوئی مقدمہ نہیں بنتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button