نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی کے ٹیکری اور سنگھو بارڈر پر مرکزی حکومت کے تینوں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان مہلک کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے انفیکشن سے پاک مہم چلا رہے ہیں اورروزلنگرکے ساتھ قوت مدافعت کومضبوط کرنے کیلئے کاڑھا دے رہے ہیں۔پیر کے روز دہلی میں کورونا وائرس کی وجہ سے 319 افراد کی موت ہوگئی اور 12651 نئے کیس رپورٹ ہوئے اور انفیکشن کی شرح 19.10 فیصد ہوگئی ہے۔
بھارتیہ کسان یونین (ایکتا اُگراہن) کے روپ سنگھ نے منگل کے روز کہا کہ ہم نے ٹکری بارڈر پر 17 کلومیٹر طویل مظاہرے کی جگہ کو وائرس سے پاک بنا دیا ہے۔ آنے والے وقت میں ہم اسے دوبارہ انفیکشن سے پاک کریں گے، ہم مظاہرہ کرنے والے کسانوں میں ماسک اور سینیٹائزر تقسیم کرنے سمیت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے تمام تر حفاظتی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
سنگھ نے دعوی کیا کہ کسانوں کو کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملا ہے اور انہوں نے ٹکری بارڈر پر اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے ہیں۔دہلی کی سنگھو، ٹکری اور غازی پور سرحدوں پر ہزاروں کسان 6 ماہ سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ان میں زیادہ تر پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش کے کسان شامل ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت گذشتہ سال ستمبر میں نافذ کردہ تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرے۔کسان لیڈر ابھمنیو کوہر کے مطابق سنگھو بارڈر پر ہر لنگر کو باقاعدگی سے انفیکشن سے پاک بنایا جارہا ہے اور مظاہرین کاشتکاروں کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھانے کے لئے انہیں روزانہ کاڑھادیا جاتا ہے۔
اس تحریک کی سربراہی کررہے سنیکت کسان مورچہ کے کوہار نے کہاکہ قریب ہی ایک ویکسینیشن سینٹر ہے اور جو ٹیکہ لیناچاہتاہے، وہ ویکسین لینے کیلئے آزاد ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنی طرف سے کسی سے نہیں کہ رہے ہیں کہ وہ ٹیکہ لگوائیں یا نہیں، یہ ان کی اپنی مرضی ہے۔



