پولیس کی طرف سے یوگیندر یادو سمیت تمام مبینہ ملزمان کوبھیجے گئے نوٹس
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کسان تحریک میں ایک خاتونہ کے ساتھ عصمت دری کے سلسلے میں ہریانہ پولیس نے کارروائی تیز کردی ہے۔ بہادر گڑھ کے ڈی ایس پی پون کمار نے بتایا کہ ٹکری بارڈر پر 25 سالہ خاتون کارکن کے ساتھ عصمت دری کے معاملہ کی تحقیقات کے لئے تین پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ،اور 6 ملزمان کے خلاف ایف آئی آربھی درج کیاگیا ہے۔
ڈی ایس پی نے بتایا کہ پولیس نے تمام ملزمان اور یوگیندر یادو کو نوٹس بھجوا دیا ہے اور اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔ اس کے علاوہ میری سربراہی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے، اس کے علاوہ متأثرہ کے ساتھ جو لوگ آئے تھے،ان سے پوچھ گچھ کے لئے بھی نوٹس دیا گیا ہے۔ہم ملزم کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واضح ہو کہ متحدہ کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے پیر کو کہا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرے گا کہ اس کے کچھ کسان رہنما ٹیکری بارڈر جائے احتجاج پر ایک خاتون کارکن کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی سے آگاہ تھے ،
جس کی ہریانہ کے ایک اسپتال میں کرونا کے با عث موت ہوئی تھی۔کسان رہنما یوگیندر یادو نے ایک آن لائن پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے ٹیلی ویژن پر ایسی خبریں دیکھی ہیں کہ کچھ کسان رہنما ٹکڑی بارڈر پر زیادتی سے آگاہ تھے، اور انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی، ہم فی الحال ان خبروں کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں ، لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان الزامات کی تحقیقات کریں گے اور سخت کارروائی کریں گے۔
کسان مورچہ نے اتوار کے روز کہا کہ خواتین پر تشدد بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یوگیندر یادو نے کہا کہ کسانوں کی تنظیموں کو مبینہ طور پر زیادتی کا پتہ اس وقت ہوا، جب متاثرہ لڑکی کے والد جو پریس کانفرنس میں موجود تھے ، 2 مئی کو ان سے ملنے آئے۔
انہوں نے بتایا کہ متأثرہ کے والد 29 اپریل کو دہلی پہنچے اور متأثرہ خاتون سے ملے تھے، جس کی حالت تشویشناک تھی۔ خاتون نے وفات سے قبل ان سے زیادتی کے بارے میں بتایا تھا،واضح ہو کہ 30 اپریل کو متأثرہ خاتون کی موت ہوگئی ہے۔



