بین ریاستی خبریں

کل ہند مسابقہ مضمون نویسی کا انعقاد قابل ستائش:پروفیسر صفدر امام قادری

نئی نسل کو بزرگوں کی خدمات سے روبرو کرانا ضروری :نائب امیر شریعت

تقریب تقسیم انعامات میں اہم شخصیات کو مولانا محمد ولی رحمانی ایوارڈ ،مولانا ابوالکلام آزاد ایواراڈ اور پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی ایوارڈ سے نوازا گیا

نئی دہلی 7 فروری (پریس ریلیز) عزیزیہ رحمانی ایجوکیشنل اینڈویلفیئرفائونڈیشن نئی دہلی کے زیراہتمام امیرشریعت سابع حضرت مولانامحمدولی رحمانی ؒ کی شخصیت وخدمات پرکل ہند مضمون نویسی کے مسابقہ کے بعد جلسہ تقسیم انعام وایوارڈز ملی ماڈل اسکول کے کانفرنس ہال، جامعہ نگر ، نئی دہلی میں نہایت ہی تزک و احتشام کے ساتھ 5 فروری 2023 کومنعقد کیا گیا۔پروگرام کی صدارت امارت شرعیہ بہار ،اڑیسہ جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نے فرمائی۔پروگرام کی نظامت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسکالر عبدالواحد رحمانی ندوی نے کی ۔مہمان خصوصی کے طور پر پروفیسر صفدر امام قادری پٹنہ، پروفیسر احمد محفوظ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، حاجی محمدانور رحمانی کلکتہ ، مولانا زکریا قاسمی زید کالج، دہلی،جناب فیروز صدیقی دہلی، ڈاکٹر واحد نظیر جامعہ ملیہ اسلامیہ ، مفتی نادر قاسمی اسلامک فقہ اکیڈمی دہلی، جناب وسیم مظفر نگر،جناب محمد صلاح الدین مونگیر،جناب منیر انجم پرانی دہلی ،ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر توقیر راہی ، جناب فیض الااسلام فیضی کریٹیواسٹار، مولانا سبحان قاسمی نبی کریم دہلی، مولانا اسلم رحمانی خانقاہ رحمانی مونگیر، جناب سلیم میرٹھ کے علاوہ بڑی تعداد میں مہمانان کرام موجود تھے۔ جن کاشال پوشی کے ذریعہ استقبال کیا گیا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی کی خدمات بیش بہا ہیں۔ نئی نسل کو ان کی خدمات سے رو برو کرانا نہایت ہی ضروری ہے اور اس کے لئے عزیزیہ رحمانی فائونڈیشن کے ذمہ دار ان مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس طرف سب سے پہلے قدم بڑھایا ہے۔ جس کے لئے آج ہم سب جمع ہیں۔پروفیسر احمد محفوظ نے کہا اس طرح کا مسابقہ منعقد کرنا اور ایسے موضوع کا انتخاب کرنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نوجوانوں میں آج بھی اپنے بزرگوں کی امانت کی حفاظت کا جذبہ موجود ہے. فائونڈیشن کے سکریٹری مولانا محمد نجم الدین رحمانی نے بتایاکہ کل انعامات کی رقم 49,784 روپے کی ہیں۔ جس کی تفصیلات یہ ہیں۔پہلاانعام 5000 نقداور پانچ ہزار کی کتابیں،دوسراانعام3000 نقد اور تین ہزار کی کتابیں،اورتیسراانعام 2000 نقد مع دو ہزار کی کتابیں دی گئیں ہیں۔

اس کے علاوہ ممتاز11مقالہ نگاروں کو 2500 پچیس سو روپے کی کتاب بطور انعام پیش کی گئی اور ٹرافی و سند سے نوازا گیا ہے۔ نیزسبھی شرکاء کوتوصیفی سند بھی دی گئی ہیں۔ اس مسابقہ میں اول انعام جناب عبد القیوم مدرسہ قاسمیہ بحر العلوم، بیگو سرائے، دوم انعام محترمہ سعدیہ ستیہ وتی کالج ، دہلی اور سوم انعام مولانامحمد جلال الدین قاسمی بنگلور کے علاوہ تشجیعی انعام کے لئے محترمہ نکہت پروین اڑیسہ، مولانا منہاج عالم ندوی امارت شرعیہ بہاراڑیسہ جھار کھنڈ،محترمہ عظمیٰ مہدی چودھری چرن سنگھ یونیورسیٹی ،میرٹھ ،جناب خالد سیف اللہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم ،سرائے میر، اعظم گڑھ، محترمہ صفیہ اختر سبحانی جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ، جناب ارقم راہی البرکات پبلک اسکول، علی گڑھ، محترمہ ہما تحریم کلکتہ گرلس کالج، کلکتہ ، مولانا محمدشاہد رحمانی جامعہ رحمانی ،مونگیر، جناب محمدشیان کالج آف وکیشنل اسٹیڈیز، دہلی یونیورسیٹی، دہلی محترمہ لائبہ زرین فخرآسنسو ل گرلس کالج، آسنسول،مولانا اشفاق احمد قاسمی معہدالکتاب و السنہ ، نوادہ نے حاصل کیا۔

تقسیم انعام کے موقعہ پرتین اہم شخصیات کو ایوارڈ بھی دیا گیا۔ جس میں مولانا محمد ولی رحمانی ایوارڈ 2022- مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت بہار اڑیسہ جھارکھنڈ، مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ 2022- پروفیسر صفدر امام قادری ، کالج آف کامرس ، پٹنہ اور تیسرا ایوارڈ پروفیسر شمس الرحمٰن فاروقی ایوارڈ 2022- پروفیسر احمد محفوظ جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دہلی کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ ان تینوں کے علاوہ عزیزیہ رحمانی فائونڈیشن کی ساری چیزوں کو یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرنے اور فائونڈیشن کے ٹیکنیکل مسائل حل کرنے کی وجہ سے NR Information YouTube Channel کو بھی ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں ٹرافی پیش کیا۔فائونڈیشن کے سر پرست شہاب الدین رحمانی قاسمی نے بتایا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی تاریخ کو یاد رکھنا چاہیے اور نئی نسل کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے امت کے لئے کیسی کیسی قربانیاں پیش کی ہیں۔ اسی لئے ان کے نام سے ایوارڈز دئے گئے ہیں۔اس کے علاوہ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی ؒ کے چندخاص لوگوںکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بھی ان کے اعزاز میں میمنٹو اور شال پیش کیا گیا ہے۔

فائونڈیشن کی چیئرمین محترمہ صبا انجم نے بتایا کہ ا س یادگاری تقریب میں دو اہم کتابوں کا اجرابھی عمل میں آیا۔ ان میں سے ایک کتاب ’ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر ‘ جن کے مصنف شہاب الدین رحمانی قاسمی ہیں اور دوسری کتاب ’ نیند کھلی تنہائی ‘ ہے۔ جن کے مصنف ایم جے اظہر اور مرتب ڈاکٹر تسلیم عارف ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button