
انتخابات ، تہوار ، ڈبل میوٹینٹ ایمس کے ڈائریکٹر نے ملک میں بڑھتے کروناکیسزکی بتائی وجہ
عوامی نرمی نے وائرس کوپھیلنے کاموقع دیا
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)ملک میں کورونا کی دوسری لہر میں ایک ہی دن میں 2-2 لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جب ملک میں جنوری سے کورونا ویکسینیشن مہم چل رہی ہے۔یہاں تک کہ ویکسین کے بعد بھی انفیکشن کے کچھ معاملات آئے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا ٹیکے کاکوئی فائدہ نہیں؟ اور کورونا کی دوسری لہر ملک میں کیوں داخل ہوئی؟ ایمس کے ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے ہفتے کے روز ایسے تمام سوالوں کے جوابات دیئے۔
ڈاکٹر گلیریا نے کہاہے کہ کورونا معاملات میں اضافے کے بہت سارے عوامل ذمہ دار ہیں۔ لیکن اس کی دو اہم وجوہات ہیں کہ کیس میں تیزی سے اضافہ کیوں ہوا۔ انھوں نے یہ بھی کہاہے کہ ویکسین سوفی صد مئوثر نہیں ہے۔
ملک میں کورونا کیسز میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ وبا کی دوسری لہر اتنی خطرناک ہے کہ مریضوں کی خدمت گار ، ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل عملہ بھی انفیکشن کے شکار ہو ر ہے ہیں۔ ادھر دہلی میں واقع ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے کہا کہ کئی ساری وجوہات کے باعث کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں ، لیکن اس کے دو اہم عوامل ہیں۔ گلیریا نے کہاکہ جب جنوری اور فروری میں ویکسی نیشن شروع ہوئی اور کیسز میں کمی واقع ہوئی ،تو لوگوں نے کوویڈ پروٹوکول پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔آج یہ ڈبل میوٹینٹ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ا س کا طبی نظام پر بھی واضح اثرات دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مد نظر اپنے اسپتال کے بیڈ اور دیگر وسائل میں اضافے کرنے ہوں گے۔ ہمیں کووڈ 19 کے کیسز کے گراف کو نیچے لانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا وقت ہے جب ہمارے ملک میں کئی ساری مذہبی سرگرمیاں ہورہی ہیں ، اور انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ زندگی اہم ہے۔
ہم ان مذہبی سرگرمیوں کو پابندی اور ضابطہ کے ساتھ کرسکتے ہیں، تاکہ مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں اورکرونا ضابطہ پر بھی عمل کیا جاسکے۔دہلی میں ہمارے ہاں اس کی بڑھتی ہوئی کیسز 6-7 ماہ قبل کی نسبت زیادہ ہیں۔



