سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

کورونا بحران میں مودی حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان

روش کمار 
میں آپ کو حکومت ِ ہند کی دو وزارتوں کی کہانی بتاتا ہوں۔ ڈاکٹر ہرش وردھن وزیر صحت ہیں اور رمیش پوکھریال نشانک وزیر تعلیم ہیں۔ رمیش پوکھریال کوئی ڈاکٹر نہیں ہیں لیکن علیحدہ طور پر وہ دوا تقسیم کروا رہے ہیں اور اس دوا کو مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن تو تقسیم نہیں کروا رہے ہیں لیکن انہوں نے اس دوا کی لانچنگ کی تقریب میں شرکت ضرور کی تھی۔ کورونا کے علاج کیلئے حکومت نے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں یا وزیر صحت نے جو ٹوئٹ کیا ہے، اس میں ڈارک چاکلیٹ تو ہے مگر کورونل (Coronil) نہیں ہے جو یوگا گرو رام دیو کی دوا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا مرکزی وزیر تعلیم وہ دوا تقسیم کرواسکتے ہیں جس کا ذکر انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے اپنے رہنمایانہ خطوط میں نہیں کیا ہے۔ لاکھوں لوگوں کی موت کے بعد کیا ہم اس طرح کورونا کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ ٹوئٹ وزارت تعلیم کے ٹوئٹر ہینڈل سے کہا گیا ہے کہ وزیر تعلیم نے یوگا گرو رام دیو سے درخواست کی ہے کہ ہردوار کے 250 کووڈ 19 مریضوں کو ان کے چل رہے علاج کے ساتھ میں Coronil بھی دی جائے۔
وزیر تعلیم کی اس جانکار ی کی بنیاد پر کورونل تقسیم کروا رہے ہیں؟ 22 اپریل کو ICMR نے اپنے رہنمایانہ خطوط میں بتایا ہے کہ کس دوا کے استعمال سے کیا خطرات ہیں لیکن اس میں رام دیو کی کورونل کا تذکرہ نہیں ہے۔ 17 مئی کو جاری کئے گئے رہنمایانہ خطوط میں بھی کورونل کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔
 
کورونل کو لے کر انڈین میڈیکل اسوسی ایشن نے احتجاج کیا ہے۔ آئی ایم اے نے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن سے سوال کیا تھا کہ انہوں نے کورونل کی لانچنگ تقریب میں شرکت کیوں کی تھی۔ 22 فروری کو IMA نے کہا تھا کہ اگر کورونل سے کورونا روکا جاسکتا ہے تو حکومت ٹیکہ اندازی مہم پر 35 ہزار کروڑ روپئے خرچ کیوں کررہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کو اس بارے میں اچھی طرح معلوم ہی ہوگا۔
اگر مرکزی وزیر اپنی طرف سے کوئی دوا تقسیم کروا رہے ہیں تو پھر حکومت کو جواب دینا چاہئے۔ کچھ طلبہ ہوتے ہیں جنہیں پتہ ہے کہ پرنسپل کی ڈانٹ پڑے گی لیکن ان پر اس ڈانٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بس وہ پرنسپل کے سامنے ڈرتے ہوئے کھڑے ہونے کی اداکاری کرتے ہیں۔ ڈانٹ کھاتے ہیں اور چھٹی کے بعد پورے مل کر ہنسی مذاق کرتے ہیں، پھر وہی سب کچھ کرتے ہیں جس کیلئے ڈانٹ پڑتی ہے۔
کووڈ کے معاملے میں عدالت کی برہمی کا سامنا کررہے عہدیداروں کا بھی یہی حال ہے۔ اپریل اور مئی کے ماہ میں عدالت کی پھٹکار اگر آپ ایک جگہ جمع کریں گے اور حالات پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیں گے تو پتہ چلے گا کہ ڈانٹ ڈپٹ اپنی جگہ ہے اور حکومت اپنی جگہ ہے۔ عہدیداروں کیلئے عدالت کی برہمی اور ڈانٹ ڈپٹ بھی ایک قسم کی تنبیہ اور پیار ہوگئی ہے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے پہلی مرتبہ یوگی حکومت پھر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔
اس بار کا تبصرہ ہے کہ ریاست میں صحت عامہ کی حالت ’’رام بھروسہ‘‘ ہے۔ مجھے تو فکر اس بات کی ہے کہ بہت سے لوگ کہیں اسے عدالت کی جانب سے یوگی حکومت کی تعریف نہ سمجھ لیں کہ اب سب کچھ ٹھیک ہے کیونکہ رام بھروسہ ہے۔ لیکن انہیں سمجھنا ہوگا کہ اس تناظر میں رام بھروسہ کا مطلب مختلف ہے۔ ’’تیرا رام ہی کریں گے‘‘۔ بیڑہ پار اداس من کا ہے کو کرے رے، میرے اس پسندیدہ بھجن کو یہاں نافذ نہ کریں کہ اسپتال نہیں ہوگا ڈاکٹر نہیں ہوگا، دوا نہیں ہوگی تو رام جی بیڑہ پار کردیں گے۔
رام جی نے منع نہیں کیا تھا کہ عالمی وباء آنے کے ایک سال کچھ کرے ہی نا۔ اس بات کو لے کر بالکل امید نہ کریں کہ عدالت کے یہ کہہ دینے کے بعد کہ یوپی میں صحت عامہ کی صورتحال رام بھروسہ ہے۔ ساری چیزیں بدلنے لگیں گی اور آپ کااعتماد اسپتال پر بڑھنے لگے گا، لیکن یہ معاملہ تھا کیا جس کی سماعت کرتے وقت عدالت کو یہ تبصرہ کرنا پڑا۔ 21 اپریل کو سنتوش کمار میرٹھ کے ضلعی اسپتال میں شریک ہوئے ایک دن باتھ روم گئے اور وہیں بے ہوش ہوکر گرگئے۔
اس معاملے کی تحقیقات کیلئے عدالت نے تین رکنی کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے بتایا کہ ڈاکٹر تلیسکا کے مطابق نائٹ ڈیوٹی پر متعین ڈاکٹر آشو وہاں موجود نہیں تھے۔ سنتوش کمار کو اسٹریچر پر لایا گیا۔ انہیں ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی مگر بدقسمتی سے وہ بچ نہیں سکے۔ جب سنتوش کمار کو اسپتال میں شریک کیا گیا تھا۔ اس وقت ڈاکٹر تنشق اتکرش ڈیوٹی پر موجود تھے۔ انہوں نے سنتوش کمار کی نعش ہٹائی اور پھر نعش کا پتہ نہیں چلا۔
ان کا شمار نامعلوم نعشوں میں کیا گیا۔ اسپتال میں شریک کئے گئے مریضوں اور مرنے والوں کی گنتی بھی کروائی گئی، لیکن سنتوش کمار کے رشتہ داروں اور دوسرے طبی عملہ کو نعش کا پتہ نہیں چل سکا۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ حیرانی کی بات ہے کہ مریض کو شریک دواخانہ کرنے والے ڈاکٹر تنشق اسے پہچان نہیں سکے۔
عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ کوئی بھی کتنے بھی بڑے عہدہ پر فائز کیوں ہو، خاطیوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ واضح طور پر ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹروں کی لاپرواہی تھی۔ سنتوش کمار کی بیٹی کو جس آزمائش سے گزرنا پڑا، آپ میں سے کئی اس آزمائش اور رنج و الم سے واقف ہیں۔ 21 اپریل کو سنتوش کمار دواخانے میں شریک کئے گئے اور 3 مئی تک اسپتال کا عملہ سنتوش کمار کے رشتہ داروں کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے رہا۔
سنتوش کمار کے بارے میں ان کی بیٹی سے جھوٹ بولتے رہے۔ 8 مئی کو بتایا کہ 23 اپریل کو ہی ان کے والد کی موت ہوگئی اور ارکان خاندان کا پتہ نہیں چلا تو آخری رسومات انجام دی گئیں۔ شیفا شیوانگی کا آپ لوگ پرانا ویڈیو سن سکتے ہیں۔ عام آدمی غلط علاج اور لاپرواہیوں کی فائل بناکر اِدھر اُدھر بھاگ دوڑ کر رہا ہے۔ کوئی سننے والا نہیں ہے۔
شیوانگی کی طرح تمام لوگوں کو اسپتالوں کے اندر اور باہر اپنے تجربات اور گزرے حالات کا ویڈیو بناکر سوشیل میڈیا پر اَپ لوڈ کرنا چاہئے تاکہ مابقی لوگوں کو اس بات کا پتہ چلے کہ وہ کن حالات سے گزرے ہیں۔
کچھ نہیں تو حکومت کی ایک اور وزارت جیسے کورونل تقسیم کروا رہی ہے۔ اُسی طرح ایک وزارت کو لوگوں کے ویڈیوز حذف کروانے کا کام ضرور مل جائے گا۔ کام پر نظر ہوتی تو جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس اجیت کمار کو یہ نہیں کہنا پڑتا کہ ریاست کی صحت عامہ کی صورتحال رام بھروسہ ہے۔
عدالت نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بجنور ضلع میں کوئی لیول 3 اسپتال ہی نہیں ہے جو تین سرکاری دواخانے ہیں ان میں صرف 150 بیڈس ہیں، صرف 5، BIPAP مشینیں ہیں، دو ہی ہائی فلو نیزل کیانول ہیں یہ سچائی سب جانتے ہیں مگر اس بار پھر سے غلطی کا اعادہ کیا جارہا ہے۔
اگلی بار بھی پھر سے یہ غلطی دہرائی جائے گی کیونکہ اسپتال بنانے، چلانے اور اس کے چلتے رہنے کیلئے جو بجٹ اور ارکان عملہ چاہئے، وہ کبھی پورا نہیں کیا جائے گا۔اس درمیان حکومت بیمہ کا کوئی نیا کارڈ لاؤنچ کردے گی اور لوگوں کو لگے گا کہ بیمہ کے کارڈ سے علاج ہوجائے گا۔ چاہے استعمال نہ ہوں اور اسپتال میں بیڈس نہ ہوں۔ 4 مئی کو اس کورٹ نے کہا تھا کہ ہمیں اس بات کا بہت دکھ ہے کہ اسپتال میں آکسیجن کی سربراہی نہ ہونے سے کووڈ کے مریض فوت ہوگئے۔
یہ پوری طرح سے ایک جرم ہے اور قتل عام سے کم نہیں ہے۔ ان لوگوں کے ذریعہ قتل عام ہے جن پر یہ جوابدی تھی کہ آکسیجن کی سپلائی کو یقینی بنائیں گے۔ 4 مئی سے 13 مئی کے درمیان یہی فرق آیا کہ عدالت کی برہمی فتل عام سے رام بھروسہ پر پہنچ گئی۔ ہمارے اس ظالم وقت کی ایک خوبی ہے کہ ٹیکس کے پیسوں سے JNU کیوں چلا رہا ہے۔ اس پر بحث کرنے والے لوگ نظر نہیں آرہے ہیں۔ وہ نہیں بتا رہے ہیں کہ ان کے ٹیکس کے پیسوں سے اسپتال کیوں نہیں چل رہا ہے۔ آکسیجن کیوں نہیں مل رہا ہے۔
اس وقت ٹیکس قوم پرستی حیرت انگیز طور پر غائب ہے۔ ویسے جیسے کیمپس کم ہونے کی خبریں سرخیوں میں پڑی ہورہی ہیں۔ واٹس ایپ گروپ کے رشتہ دار پھر سے آئی ٹی سیل کے پیامات فارورڈ کرنے لگے ہیں جو آپ کی تقدیر میں لکھا، وہ کون بدل سکتا ہے۔ ضلع اُناؤ کے بنگارماؤ بلاک کا مرکز صحت ایک کچرہ ہاؤز میں تبدیل ہوگیا ہے، وہیں آشا اور آنگن واڑی مراکز تعمیر کئے گئے ہیں۔
ان مراکز کو دیکھ کر آپ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ آیا کورونا کی عالمی وباء سے لڑنے ہم نے کبھی تیاری بھی کی ہے۔ اصل میں ان عمارتوں کی جب تعمیر کروائی گئی، اس کا مقصد صرف اور صرف تشہیر تھا۔ آپ ہندوستان میں اس طرح کی بے شمار بلکہ لاتعداد عمارتیں پائیں گے جنہیں برسوں قبل تعمیر کیا گیا اور فی الوقت یہ عمارتیں کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان عمارتوں کی دیکھ بھال اور ان میں صحت عامہ کی سہولتیں چلانے کیلئے درکار فنڈس ہی نہیں ہیں جبکہ ملک کے بیشتر دیہی علاقوں میں صحت عامہ کی سہولتیں ندارد ہیں اور لوگوں کے مرنے کی مسلسل خبریں آرہی ہیں تاہم ان مرنے والوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران گجرات ہائیکورٹ نے بھی وہاں کی ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہاں تک کہہ دیا کہ مرکزی حکومت، گجرات میں Remdesivir کی قلت کے باعث یہ چاہتی ہے کہ مریض مرجائیں۔
سارے ملک میں اس ڈرگ کی بڑے پیمانے پر بلیک مارکیٹنگ جاری ہے۔ پٹنہ ہائیکورٹ نے بھی ریاستی حکومت پر برہمی ظاہر کی۔ مثال کے طور پر بہار کے چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ یکم مارچ سے بکسر میں 6 اموات ہوتی ہیں جبکہ کمشنر پٹنہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 5 اور 15 مئی کے درمیان بکسر میں 789 نعشیں نذرآتش کی گئیں اور 10 مئی کو 106 نعشوں کی آخری رسومات انجام دی گئیں۔
30 اپریل کو بہار کے چیف سیکریٹری ارون کمار سنگھ کی کورونا سے موت ہوئی۔ اس سانحہ کے باوجود بیورو کریسی کا بھروسہ قائم رہا۔اب بات کرتے ہیں ڈاکٹرس کی اموات کی IMA کے مطابق پچھلے سال کورونا سے 730 ڈاکٹرس اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے جاریہ سال 244 ڈاکٹرس فوت ہوچکے ہیں۔ 16 مئی کو 50 ڈاکٹرس فوت ہوئے لیکن ایک دن میں 50 ڈاکٹروں کی موت کو خبروں میں جگہ نہیں دی گئی۔
IMA کے مطابق صرف 3% ڈاکٹرس نے ٹیکہ لیا ہے۔ IMA کا کہنا ہے کہ جاریہ سال کورونا سے یوپی میں 34 اور دہلی میں 25 ڈاکٹرس فوت ہوئے لیکن زیادہ سے زیادہ 78 ڈاکٹرس کی زندگیاں تلف ہوگئیں۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button