بین الاقوامی خبریں

کورونا وائرس کی بھارتی قسم تشویشناک ہے، ڈبلیو ایچ اوکا انتباہ

نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا وائرس کی نئی بھارتی قسم اصل وائرس سے کہیں زیادہ متعدی ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ویکسین بھی اس کے مقابلے میں بے اثر ہو سکتی ہے۔عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے دس مئی بروز پیر کہا کہ بھارت میں گزشتہ اکتوبر میں پہلی بار پائے جانے والے کورونا وائرس وارینٹ آف انٹریسٹ کے مقابلے میں موجودہ کورونا وائرس کی نئی قسم، جسے 1۔B-617 کا نام دیا گیا ہے، اسے وارینٹ آف کنسرن یعنی تشویش ناک وائرس کے زمرے میں کر دیا گیا ہے۔

یہ اعلان ڈبلیو ایچ او میں کورنا وائرس پر تحقیق کرنے والی ٹیم کی قیادت کرنے والی سائنسدان ماریہ وان کیرکوف نے کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ کچھ ایسی معلومات دستیاب ہوئی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ 1۔B-617 وائرس بہت تیزی پھیلتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت میں صرف یہی ایک وائرس نہیں پھل رہا بلکہ برطانوی وارینٹ بی۔1۔1۔7 بھی، جس کے تیزی سے پھیلنے کے پہلے ہی ثبوت مل چکے ہیں، بھارت میں موجود ہے۔اس طرح کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد کہ بھارت میں پائے جانے والے تیزی سے تغیر پذیر نئے وائرس کے خلاف شاید ویکسین بھی موثر ثابت نہ ہو، ڈبلیو ایچ کی سائنسدان نے کہاکہ ہم بین الاقوامی سطح پر اسے تشویشناک وائرس کے زمرے میں رکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی قسم کا یہ نیا وائرس انڈیا کے باہر بھی کئی ملکوں تک پہنچ چکا ہے۔ ڈبلیو ایچ او میں کورنا وائرس پر تحقیق کرنے والی ٹیم کی قیادت کرنے والی سائنسدان ماریہ وان کیرکوف کے مطابق بھارتی وائرس کافی تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ گیارہ مئی بروز منگل جب عالمی ادارہ صحت وبائی امراض سے متعلق اپنی ہفتہ وار بریفنگ کریگا تو اس وقت اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button