
کورٹ کے نوٹس کے بعدانتخابی مراحل کے اواخرمیں الیکشن کمیشن کی ہدایت
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)کورونا وائرس انفیکشن کے معاملات میں اضافے کے درمیان الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور اسٹار تشہیرکاروں کے ماسک کے بغیر انتخابی مہم کا معاملہ اٹھایا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کے ہدایت نامے پرعمل نہیں کیاگیاتووہ بغیرچوں وچراکے پابندی عائدکردے گا۔ایسی ہی دھمکیاں بہارالیکشن میں بھی دی گئی تھیں لیکن کیاکارروائی ہوئی سب کومعلوم ہے،اوران ریلیوں میں حکومت کے ذمے داران موجودہوتے تھے۔الیکشن کمیشن اس وقت بھی تماشائی بنارہااورلاکھوں کاہجوم ہرجگہ جمع ہوتا،
یہی حال بنگال میں ہے۔ تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کولکھے گئے خط میں الکیکشن کمیشن نے کہاہے کہ یہ بات بڑے پیمانے پر مشہور ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں کوویڈ 19 کے معاملات تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم کمیشن کے علم میں ، ایسے انتخابی اجلاس / تشہیر کے معاملات سامنے آئے ہیں جہاں معاشرتی فاصلے ، ماسک پہننے جیسے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور کمیشن کے ہدایت نامے کی نافرمانی کی گئی ہے۔
خط کے مطابق ایسا کرنے سے ، سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنے آپ کو اور ان انتخابی اجلاسوں میں شرکت کرنے والے افرادکو انفیکشن کے شدید خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ خلاف ورزیوں کی صورت میں عوامی جلسوں،امیدواروں کوبغیر کسی مزید اطلاع کے پابندیاں عائد کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔دہلی ہائی کورٹ نے انتخابی مہم کے دوران ماسک کے استعمال پر کمیشن اور مرکزی حکومت سے جمعرات کو جواب طلب کیا۔
آسام میں تین مراحل میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور تمل ناڈو ، کیرالہ اور پڈوچیری میں ایک مرحلے میں ، جبکہ مغربی بنگال میں آٹھ مرحلے کے ووٹنگ کے عمل کا چوتھا مرحلہ ہفتہ کو مکمل ہوا۔کمیشن نے کہاہے کہ اس نے قواعد کی تعمیل میں سستی کو سنجیدگی سے لیا ہے جس میں ماسک نہیں پہننا اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنا شامل ہے ، خاص طور پر اسٹیج پر قائدین کے ذریعے۔اسی طرح کی بات بہارالیکشن میں بھی کی گئی تھی لیکن کیاکاررووائی ہوئی وہ سب کومعلوم ہے۔
کمیشن نے تمام فریقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ سنجیدگی سے عمل کریں۔دو صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ سیاسی رہنما اور امیدوار جن کا فرض ہے کہ کوویڈ 19 کو پھیلنے سے روکیں۔



