بین الاقوامی خبریں

گزشتہ ہفتہ انڈونیشیا کی غرقاب ہونے والے آبدوز کا ملبہ مل گیا

جکارتہ: (ایجنسیاں) انڈونیشیا کی فوج کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے اس کی جو آبدوز غرقاب ہوئی تھی اس میں سوار 53 افراد میں سے کسی کے بھی بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ انڈونیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز گم شدہ آبدوز کا پتہ لگا لیا گیا ہے۔ بحریہ کے سربراہ یودو مارگونو کا کہنا ہے کہ آبدوز تین ٹکڑوں میں ٹوٹ کر بکھر گئی ہے۔

ایئر مارشل ہادی تہاجانتو نے اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ اس مستند ثبوت کے ساتھ، ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ کے آر آئی ننگ گالا 402 ڈوب گئی ہے اور اس میں سوار عملے کے 53 افراد بھی اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے انتقال کر گئے۔پانی کے اندر ڈرون سے لی جانے والی تصاویر میں آبدوز کا ملبہ سطح سمندر پر دیکھا جا سکتا ہے۔ سنگا پور کے ایک کرافٹ نے تقریباً 1500 میٹر پانی کے اندر اس کا پتہ لگایا تھا۔ اس سے قبل انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے اس آبدوز میں سوار ہلاک ہونے والے عملے کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی اس آبدوز میں سوار سبھی 53 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا، ”ہم تمام انڈونیشیا کے لوگ اس المیے پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور آبدوز کے عملے کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی حکام آبدوھ اور عملے کی لاشوں کی بازیافت کی ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے بدھ کو بالی کے ساحلوں کے پاس ٹارپیڈو مشقوں میں حصہ لینے کے دوران مغربی جرمنی میں تیار شدہ 44 سالہ آبدوز کا اچانک رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

یہ پانی کی سطح پر آنے میں ناکام رہی تھی جبکہ اس میں عملے کے لیے صرف 72 گھنٹوں کے لیے ہی آکسیجن بچی تھی۔امدادی ٹیموں نے اعلان کیا کہ انہیں آبدوز کے آخری معلوم مقام کے پاس سے نماز پڑھنے کی چٹائی کے ٹکڑے، ٹارپیڈو سسٹم کا ایک ٹکڑا اور پیریسکوپ لبریکینٹ کی ایک بوتل جیسی اشیاءملی تھیں۔ اسی وجہ سے انہیں اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ آبدوز ٹوٹ کر بکھر گئی ہے۔ امریکا، آسٹریلیا، سنگا پور اور ملائیشیا کے سمندری جہاز اور ہیلی کاپٹر اس کی تلاشی مہم میں لگے ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button