نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی وزارت داخلہ سے پوچھاکہ وہ بغیردستاویز کے رہ رہے غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے کاکیا طریقہ کاراپناتاہے۔عدالت نے یہ ہدایت ایک نابالغ سمیت3 بنگلہ دیشی نوجوانوں کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دی، جن کاکہناہے کہ انہیں اغوا کرکے یہاں لایا گیا ہے اور اب وہ اپنے گھر واپس جانا چاہتے ہیں۔جسٹس پرتابھا ایم سنگھ نے وزارت داخلہ کو غیر ملکیوں کو واپس بھیجنے کے عمل کے ساتھ ہی ایسے شہریوں کو بھیجنے ، ملک بدر کرنے کی وقت کی حد کے بارے میں بھی معلومات دینے کی ہدایت دی ہے۔
عدالت نے منگل کے روز کہا کہ اگر اس سلسلے میں بنگلہ دیش کے ساتھ کوئی بات چیت ہو تو عدالت کو ملک بدری کی درخواست خط کے ساتھ عدالت کو آگاہ کرنا چاہئے۔عدالت نے کہا کہ اگر 13 مئی تک حلف نامے کے ساتھ یہ عمل پیش نہیں کیا گیا تو وزارت داخلہ کے سینئر عہدیدار کو 17 مئی کو ہونے والی اگلی سماعت میں پیش ہونا پڑے گا۔عدالت نے 12 اپریل کو وزارت داخلہ اور خارجہ امور، بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن، حکومت دہلی، بارڈر سیکیورٹی فورس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان تینوں نوجوانوں کو واپس بھیجنے کی درخواست پر ان کاموقف مانگاہے۔
تینوں نوجوانوں کی جانب سے دائر درخواست کے مطابق وہ 4 مارچ 2021 کو ہند۔ بنگلہ دیش بارڈر دیکھنے گئے تھے، تبھی سرحد کے قریب ایک شخص نے انہیں کچھ کھانے کودیاتھا۔درخواست کے مطابق وہ کھانا کھانے کے بعد بیہوش ہوگئے اور 10 مارچ کو جب ہوش آیا تو خودکو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پایا۔ اس کے بعد وہ کمل نگر پولیس اسٹیشن گئے اور انہیں واقعے سے آگاہ کیا جہاں پولیس نے انہیں کھانے کے لئے کچھ رقم دی اور پھر رین بسیرامیں منتقل کردیا۔



