بین الاقوامی خبریں

ہانگ کانگ : چین کے مظالم عروج پر، 53 رہنماؤں اور سماجی کارکنان کی گرفتاری  

بیجنگ: (ویب ڈیسک) ہانگ کانگ میں چین کی مداخلت اور مظالم عروج پر پہنچ گئے۔ چین کی جانب سے نئے قومی سلامتی ایکٹ کی آڑ میں کی جانے والی گرفتاریوں کی دنیا بھر میں مخالفت کی جارہی ہے۔بدھ کے روز قومی سلامتی کے قانون کی خلاف ورزی پر 53 سابق ممبران پارلیمنٹ اور جمہوریت نواز کارکنوں کو گرفتار کرنے پر دنیا کے سپر پاور ممالک امریکہ آسٹریلیا ، کینیڈا اور برطانیہ نے احتجاج کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے اپنے ہم منصبوں کے ہمراہ ہانگ کانگ میں چین کے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا۔

گرفتار کئے گئے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے گذشتہ سال مقننہ کے غیر سرکاری بنیادی انتخابات میں حصہ لے کر نئے قومی سلامتی ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔امریکہ ، آسٹریلیا ، کینیڈا اور برطانیہ کے ہم منصبوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی ایکٹ کے تحت کی جانے والی کارروائی سنگین معاملہ ہے۔ انہوں نے چین کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقے کے عوام کے قانونی حقوق اور آزادی کا احترام کریں۔ چاروں رہنماؤں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ قانون چینی برطانوی مشترکہ اعلامیے کی خلاف ورزی ہے اور’ ایک ملک ، دو نظام’ کے فریم ورک کو کمزور کرتا ہے۔

یہ الزام لگایا گیا ہے کہ اس قانون کو ہانگ کانگ کے عوام کے حقوق اور آزادی کو دبانے اور مخالفت اور متفرق سیاسی نظریات کے خاتمے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ان چاروں ممالک نے چین سے اپیل کی ہے کہ بغیر گرفتاری کے خوف کے لوگوں کو آزادی اور حقوق دئیے جائیں۔ نیز ستمبر میں ہونے والے انتخابات میں منصفانہ ہونے کو کہا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ بدھ کے روز اپوزیشن کے 50 سے زائد ممبران اسمبلی اور کارکنوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

ہانگ کانگ میں نافذ نئے قانون کے تحت مجرم پائے جانے والے مرکزی ملزم کو 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ وہیں ، ساتھ دینے والے کو 3-10 سال کے درمیان جیل ہوسکتی ہے ،جبکہ نابالغ بچوں کو 3 سال قید ، کچھ وقت کے لئے نظربند یا پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button