ہنگامہ آرائی کی وجہ سے نہیں چل سکی پارلیمنٹ کی کاروائی
کسانوں کے مسئلے پر ایوان کے اندر اور باہر بحث کیلئے تیار ہیں: وزیر زراعت

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)سڑک سے پارلیمنٹ تک کسانوں کے معاملے پر جدوجہد جاری ہے۔ زرعی قانون کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے ہنگامے کے سبب لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کاروائی آج نہیں چل سکی۔ لوک سبھا کی کاروائی دو بار اور راجیہ سبھا نے دن میں تین بار ملتوی کی۔ اپوزیشن جماعتیں مطالبہ کررہی ہیں کہ کسانوں کے معاملے پر دونوں ایوانوں میں پہلے بحث کی جائے۔
راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ایک دن بعدبدھ کے روز صدر کے خطاب پر بحث میں حزب اختلاف کی جماعتوں اپنی بات پیش کرسکتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد، ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے، ڈی ایم کے کے ترچی شیوا، بائیں بازو کے ممبر ای کریم، ونئے وشوم کسانوں کے معاملے پر بات چیت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وقفہ سوال اور وقفہ صفر ایوان میں نہیں ہوسکا۔ ہنگامے کے درمیان وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کسانوں سے متعلق امور پر بات کرنے کے لئے تیار ہے۔ اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تجویز پیش کی جارہی ہے۔
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے تیسرے دن لوک سبھا کی کاروائی کا آغاز ہوتے ہی کانگریس، ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے ممبران نے اسپیکر کی نشست کے قریب نعرے بازی شروع کردی۔ وہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اپوزیشن ارکان ’قانون واپس لو‘ کے نعرے لگارہے تھے۔
بہت سے ممبران کے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی تھے جن پر زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبات بھی لکھے ہوئے تھے۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی بھی وقفہ سوال کے دوران کانگریس ممبران کے شور و غل کے دوران موجود تھے۔ شیوسینا کے کچھ ممبران اور شورومالی اکالی دل کی رکن پارلیمنٹ ہرسمرت کور بادل بھی زرعی قوانین کی مخالفت کرتے نظرآئیں۔



