جرائم و حادثاتسرورق

یوپی : مسلم لڑکے سے عشق کی سزا ،سرپرستوں نے بیٹی کا کیااگنی دان ،4گرفتار

یوپی : مسلم لڑکے سے عشق کی سزا ، سرپرستوں نے بیٹی کا کیااگنی دان ،4گرفتار

سنت کبیر نگر ؍ بستی: (اردودنیا.اِن)مشرقی یوپی کے سنت کبیر نگر میں عشق کی سزا کچھ اس طرح دی گئی کہ سرپرستوں نے ہی اپنی بیٹی کو محض ڈیڑھ لاکھ کے عوض زندہ جلوادیا ۔ یہ معاملہ گورکھپور -بستی سے متصل سنت کبیر نگر ضلع میں پیش آیا ہے ۔ اطلاع کے مطابق یہاں 28 سالہ لڑکی کو اس کے اہل خانہ نے اس وجہ سے موت کے گھاٹ اتاردیا ؛کیوں کہ وہ ایک مسلم لڑکے کے عشق میں مبتلا تھی۔

مقتول لڑکی کی لاش 4 فروری کو مسخ شدہ حالت میں دن گھٹا علاقہ میں پائی گئی ۔ پولیس نے اس معاملہ میں لڑکی کے والد ، بھائی اور بہنوئی سمیت چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ عدالت میں پیش ہونے کے بعد سب کو منگل کے روز جیل بھیج دیا گیا۔ جب لڑکی کی آدھی لاش 4 فروری کو دھن گھٹا علاقے میں کھیت سے ملی تھی، تو پولیس نے لٖاش کی شناخت جیتوپور گاؤں کی رہائشی رنجنا یادو کے نام سے کی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں دم گھٹنے سے موت کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ رنجنا کی موت گلا گھٹنے سے ہوئی تھی یا دھوئیں کے باعث ہوئی ۔ جب پولیس نے اس معاملہ کی تفتیش کی تو پتہ چلا کہ بدنصیب مقتول لڑکی ایک مسلم لڑکے عشق کے سحر میں مبتلا تھی۔

اہل خانہ اپنے خاندانی وجوہات کے باعث اس معاشقہ سے رنجیدہ تھے ۔

پولیس نے مزید تفتیش کی تو رنجنا کے اہل خانہ ایک سی سی ٹی وی میں نظر آئے۔ اس کے بعد پولیس نے رنجنا کے والد کیلاش یادو ، بھائی اجیت یادو ، ستیہ پرکاش یادو اور سیتارام کو گرفتار کیا، جب پولیس نے اس معاملہ میں اس شخص سے پوچھ گچھ کی ،تو ان سب نے اپنے جرم کا قبول کرلیا۔

مقتولہ کے والدکیلاش یادو کے مطابق رنجنا کا بیلاگھاٹ کے شاہ پور گاؤں کے مسلم برادری کے بس مالک سے عشق تھا۔دسمبر 2019 میں وہ اس لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی تھی ۔ نجوان کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے جب سختی کی تو کچھ مہینوں کے بعد رنجنا واپس آگئی،

اس کے بعد رنجنا نے ایک بیان دیا تھا کہ وہ بالغ ہے، وہ اپنی مرضی سے اپنے محبوب کے ساتھ گئی تھی ۔

اس کے بعد رنجنا اکثر اپنے محبوب سے ملتی تھیں،یہ چیزیں اہل خانہ کو کھٹکتی تھی ۔ کیلاش نے کہا کہ اس سے معاشرہ میں ہماری بدنامی ہوتی تھی ، اس لئے اس کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ پہلے داماد ستیہ پرکاش سے بات کی گئی۔اس نے سیتارام سے رابطہ کیا۔ سیتارام کو ورون تیواری عرف پنٹو ملا، ورون نے ڈیڑھ لاکھ روپے قتل کیلئے مطالبہ کیا۔اسے 1 لاکھ 35 ہزار روپے دیئے گئے۔

3 فروری کی رات کو ورون اپنے ڈرائیور دوست کے ساتھ ٹاٹا میجک کے ساتھ کیلاش کے گھر پہنچا، رنجنا کو زبردستی اس کے بھائی اجیت نے سوار کیا تھا، جبکہ کیلاش موٹرسائیکل پر ورون کے ساتھ گھر سے نکلا۔اس کے بعد رنجنا کو دھن گھاٹا تھانہ علاقہ میں کوچہ روڈ سے متصل ویران جگہ پرواقع ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ جہاں اس نے شور مچایا، لیکن اجیت اس کے منہ اور ناک کو دبائے رکھا،جب تک کہ وہ بے ہوش نہ ہوگئی۔

اس کے بعد بوری کو کمرے میں پھیلاکر اس پر رنجناکو سلاکر سفاکانہ طریقہ پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی،

اس کے بعد یہ چاروں لوگ وہاں سے فرار ہوگئے۔خیال رہے کہ پولیس نے واقعہ میں استعمال ہونے والے پٹرول کین اور بائیک(موٹر سائیکل) برآمد کرلی ہیں۔ جبکہ ملزم ورون تیواری اور ٹاٹا میجک ڈرائیور کی تلاش کی جارہی ہے۔ آئی جی بستی نے 15 ہزار روپے اور سنت کبیر نگر ایس پی سنتوش کمار سنگھ نے اس حساس واقعے کا انکشاف کرنے والی ٹیم کو 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button