
علی گڑھ،20جنوری(ایجنسیاں)اترپردیش کے علی گڑھ ضلع میں شاہ جمال کی پرانی عیدگاہ میں غیرقانونی تعمیرات ہونے کی اطلاع پر پہنچی پولیس پر زبردستی تالے توڑکر عیدگاہ میں داخل ہونے اور چوکیدار پر حملہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے علاقے کے لوگوں نے جام لگانے کی کوشش کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کسی کے ساتھ مارپیٹ نہیں کی گئی بلکہ افواہ پھیلادی گئی ہے۔ افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔الزام ہے کہ منگل کی دیر رات پولیس دہلی گیٹ کے علاقے میں واقع عیدگاہ میں دروازہ توڑ کر داخل ہوئی اور گارڈ کو زدوکوب بھی کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس وہاں سے روانہ ہوگئی۔ جب صبح کے وقت مقامی لوگوں کو اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے احتجاج کیا ۔ لوگوں نے پولیس کے خلاف بھی ہنگامہ کیا۔ شہرکے مفتی بھی موقع پر پہنچ گئے۔
شہرکے مفتی نے لوگوں کو سمجھایا اور اعلی حکام سے بات کرنے کو کہا۔علی گڑھ کے شہر مجسٹریٹ ونیت کمار سنگھ نے بتایا کہ پرانی عیدگاہ میں ایک مسجد تعمیر ہورہی تھی جس پر انتظامیہ نے روک لگادی ہے، کیونکہ اس میں کچھ قانونی عمل کی پیروی نہیں کی جارہی تھی۔ کہا گیا تھا کہ قواعد پر عمل کرنے کے بعد اس کی تعمیر ہونی چاہئے۔
جب پولیس معمول کے مطابق معائنہ کرنے پہنچی تو کچھ لوگوں نے یہ افواہ پھیلائی کہ یہاں رات کے وقت پولیس نے مارپیٹ کی تھی۔ اسے لے کر ایک ہجوم جمع ہوگیا ہے۔ لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہے۔ پولیس صرف معائنہ کرنے گئی تھی۔



