بین ریاستی خبریں

یوپی میں صدر راج کامطالبہ،سپریم کورٹ سخت ناراض

یوپی میں صدر راج کامطالبہ،سپریم کورٹ سخت ناراض
درخواست نئی دہلی: (اردودنیا. اِن)اتر پردیش میں صدرراج کے نفاذکے لیے سپریم کورٹ میں مفادعامہ کا مقدمہ دائر کیا گیا جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ سی جے آئی ایس اے بوبڑے نے کہا کہ درخواست گزار نے اس سلسلے میں کوئی تحقیق نہیں کی ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ یوپی میں امن وامان خراب ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یوپی میں خواتین کے خلاف فوجداری مقدمات زیادہ ہیں۔ وکیل سی آر جیاسوکن ، جو تامل ناڈو سے ہیں ، نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ اس پٹیشن میں ہاتھرس کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یوپی میں بنیادی حقوق کی پامالی کی جارہی ہے ، لہٰذا صدر راج نافذکیاجاناچاہیے۔

اگرزیادہ بحث کریں گے تو ہم جرمانہ عائد کردیں گے

عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران ناراض ہوکر درخواست گزار سے کہا ہے کہ اگروہ زیادہ بحث کریں گے تووہ بھاری جرمانہ عائد کردیں گے۔انھوں نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ہاتھرس میں خاتون کی عصمت دری اور قتل پر ملک بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ملک میں متعدد مقامات پر مظاہرے کیے گئے ہیں۔ ہاتھرس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی ایک 20 سالہ بچی 29 ستمبر 2020 کو دہلی کے صفدرجنگ اسپتال میں چل بسی۔ اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ظلم کی حد سے تجاوز کرنے والا یہ واقعہ 14 ستمبر کو یوپی کے ہاتھرس میں پیش آیا۔اس طرح کے مسلسل واقعات اترپردیش میں پیش آرہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button