
یوپی پنچایت انتخابات پر پرینکا گاندھی کا نشانہ
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے پنچایت انتخابی ڈیوٹی کے دوران 700 اساتذہ کی موت کا دعوی کرتے ہوئے اتر پردیش حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی الیکشن کمیشن کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ یوپی میں انتخابی ڈیوٹی کرنے والے تقریبا 700 اساتذہ کی موت ہوگئی ہے۔
اس میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے جسے انتخابی ڈیوٹی کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات اترپردیش میں تقریبا 60000 گرام پنچایتوں میں کورونا کی دوسری لہر کی شدت کے بارے میں بغیر غوروفکر منعقد کئے گئے ۔ انتخابات کے دوران اجلاس ہوئے ، انتخابی تشہیر کی گئی اور اب دیہی علاقوں میں کورونا کا انفیکشن پھیلتا جارہا ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ دیہی علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ مر رہے ہیں ، جو جھوٹے سرکاری اعدوشمار سے کہیںزیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے اتر پردیش میں دیہی علاقوں میں لوگ گھروں میں مر رہے ہیں اور کوویڈ کی وجہ سے ہونے والی اموات کے اعدادوشمار میں بھی ان کا شمار نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں کوئی ٹیسٹ نہیں کیا جارہا ہے۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری نے کہا کہ حکومت کا موقف سچ کو دبانے کے لئے ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ کوشش عوام اور میڈیکل کمیونٹی کو دن رات خوفزدہ کرنے کی ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش میں جو کچھ ہورہا ہے وہ انسانیت کے خلاف جرائم سے کم نہیں ہے اور یوپی اسٹیٹ الیکشن کمیشن بھی اس میں شریک ہے۔واضح ہو کہ چارمراحل میں اترپردیش کے 75 اضلاع میں پنچایت انتخابات ہوئے ہیں۔
پہلے مرحلے میں 15 اپریل ، دوسرے مرحلے میں 19 اپریل ، تیسرے نمبر پر 26 اپریل اور چوتھے مرحلے میں 29 اپریل کو پولنگ ہوئی تھی۔ الیکشن کمیشن کی تیاریوں کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے بھی کمیشن کی سرزشن کی ہے۔ تاہم بعد میں عدالت نے ان انتخابات کی گنتی کی اجازت دے دی ہے۔



