ٹی ایم سی کا ‘مشن پاک بےنقاب’ سے کنارہ
مرکز خود یہ طے کرے کہ کس پارٹی سے کون رکن جائے گا۔
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پاکستان کو دہشت گردی کے معاملے پر عالمی سطح پر بےنقاب کرنے کے لیے حکومتِ ہند کی جانب سے تشکیل دیے گئے ہمہ جماعتی وفد سے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ پارٹی نے مرکز کو مطلع کیا ہے کہ یوسف پٹھان یا کوئی اور رکنِ پارلیمنٹ اس وفد کا حصہ نہیں بنے گا۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ وفد میں کس رکن کو شامل کرنا ہے، یہ فیصلہ پارٹی خود کرے گی، مرکز یا اس کی حکومت یہ فیصلہ ازخود نہیں کر سکتی۔ ٹی ایم سی کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ہر اقدام کی حمایت کرتی ہے، لیکن اپنی نمائندگی کے بارے میں اختیار صرف پارٹی کو حاصل ہے۔
مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح کے ایسے حساس معاملات پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جب ایک ہمہ جماعتی وفد عالمی سطح پر بھارت کے موقف کو پیش کرنے جا رہا ہے، تو ایسے وقت میں اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ اختلافات کو اجاگر کرنے کی۔”
یاد رہے کہ حکومت نے ‘آپریشن سیندور’ کے بعد دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط پیغام کے طور پر سات مختلف ہمہ جماعتی وفود مختلف ممالک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان وفود کی قیادت بعض حکومتی اور بعض اپوزیشن جماعتوں کے رہنما کریں گے، تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ بھارت دہشتگردی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔
ان وفود میں بی جے پی کے روی شنکر پرساد اور بیجیانت پانڈا، شیوسینا کے شری کانت شندے، اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سنجے جھا شامل ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے کانگریس کے ششی تھرور، ڈی ایم کے کی کنی موزھی، اور این سی پی کی سپریا سولے کو شامل کیا گیا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اگرچہ کانگریس نے باضابطہ طور پر ششی تھرور کو نامزد نہیں کیا، مگر انہوں نے خود مرکز کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے سیاسی مسئلہ نہیں سمجھتے۔ بعدازاں کانگریس نے بھی چار نام حکومت کو دیے جن میں آنند شرما، گورو گوگوئی، سید ناصر حسین اور راجہ برار شامل ہیں۔
ٹی ایم سی کے قومی جنرل سیکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی کو کسی وفد کے جانے پر اعتراض نہیں، لیکن اس بات پر ضرور اعتراض ہے کہ مرکز خود یہ طے کرے کہ کس پارٹی سے کون رکن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا، "ہم مرکز کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر پارٹی کی نمائندگی کا فیصلہ صرف ہم کریں گے۔”
ٹی ایم سی کا مزید کہنا تھا کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے اور اپنی افواج پر فخر کرتی ہے، لیکن خارجہ پالیسی مرکز کی ذمہ داری ہے، اور وفود میں شرکت کا فیصلہ ہر سیاسی جماعت کو خود کرنا چاہیے۔
#WATCH | Kolkata: On being asked if TMC has opted out of the Centre’s multi-party diplomatic mission aimed at countering Pakistan-sponsored terrorism, West Bengal CM Mamata Banerjee says "…No request came to us. If a request came to us, then we could consider. We are in favour… pic.twitter.com/8VlwjmEqVt
— ANI (@ANI) May 19, 2025



