
لندن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ویتنام جنگ کے زمانے میں ریگی پتھر سے بنے انسانی ہنر اور صناعی کے دو نمونے جو تھائی لینڈ سے چوری ہو گئے تھے، امریکی شہر سان فرانسسکو کے میوزیم سے واپس تھائی لینڈ پہنچ گئے۔دس اور گیارہویں صدی میں چٹانی پتھر سے بنے ہندو دیوتاؤں ’اندرا اور یاما‘ کی اشکال کی نقاشی کے ساتھ تیار کردہ شاندار صناعی نمونے جو کبھی تھائی لینڈ کے مندر کی زینت ہوتے تھے،
گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ثقافتی شہر سن فرانسیسکو کے ایشیائی آرٹ کے میوزیم یا عجائب گھر میں شائقین کی دلچسپی کا مرکز رہے۔ اب ان فنی شاہکاروں کو دوبارہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک پہنچا دیا گیا ہے جہاں وہ آئندہ منگل سے تین ماہ کے لیے نیشنل میوزیم میں نمائش کے لیے رکھے جائیں گے۔ ان نادر نوادرات کو بنکاک کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے سجانے سے پہلے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد ہوگا۔
تھائی لینڈ کے فائن آرٹس کے شعبے کے ڈائریکٹر جنرل پردیپ پینگٹاکو کا کہنا ہے کہ یہ دونوں سل یا تختہ نما داسا جن پر ہندو دیوتاؤں کی اشکال کی نقاشی موجود ہے دراصل کمبوڈیا کے قدیمی مندر کی ساخت کا حصہ ہیں۔پردیپ پینگٹاکو نے خبر رساںایجنسی اے ایف پی سے کہاکہ یہ دونوں فنی نمونے 1958ء اور 1969کے درمیان غائب ہوئے تھے، بلکہ 1965-66 میں تھائی نوادرات کی کافی چیزیں فنی نمونے گمشدہ ہوگئے تھے انہی میں یہ بھی شامل تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ دونوں تختے دراصل ان 133 نوادرات میں شامل ہیں جنہیں امریکہ کی مختلف آرٹ گیلریز اور عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا۔
لاس اینجلس میں امریکی حکام اور ’رائل تھائی قونصل خانے‘ کے مابین ان نوادرات کی منتقلی کے لیے منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر تھائی لینڈ کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں مقدس تختے غیر قانونی طور پر 1960کی دہائی میں ویتنام کی جنگ کے دوران تھائی لینڈ سے برآمد کیے گئے تھے۔تھائی لینڈ کے ان ثقافتی ورثوں کی امریکا سے وطن واپسی دراصل امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی تین سالہ تحقیقات کے بعد ممکن ہوئی ہے۔



