جنوبی لبنان میں اسرائیلی بم باری سے 11 افراد ہلاک
امریکی ذمے داران نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی اقدامات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے
بیروت ، 3 دسمبر (ایجنسیز) امریکی ذمے داران نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی اقدامات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکام ایک خطر ناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ بات خبروں سے متعلق امریکی ویب سائٹ axios نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتائی۔ایک امریکی ذمے دار نے ویب سائٹ کو بتایا کہ واشنگٹن نے اسرائیل کے تصرفات پر اپنی تشویش کا خفیہ اظہار کیا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں نے وائٹ ہاؤس کو آگاہ کیا ہے کہ سرحد پر حالیہ کشیدگی کے باوجود وہ فائر بندی معاہدے کے پابند ہیں۔اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہرتزی ہیلفی نے کل پیر کے روز شمالی کمان کے صدر مرکز میں منعقد اجلاس میں باور کرایا تھا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کی جانب سے فائر بندی کی کھلی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دے گی۔
دوسری جانب اسرائیل نے پیر کی شام جنوبی لبنان پر فضائی حملے کیے جن کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔ کارروائی میں حاریص اور طلوسہ کے قصبوں پر بم باری کی گئی۔ اس سے چند گھنٹے قبل حزب اللہ نے کفرشوبا کے ٹیلوں میں اسرائیلی فوج کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ بات لبنان کے سرکاری میڈیا نے آج منگل کی صبح بتائی۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ کی بم باری پر طاقت کے ساتھ جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
انھوں نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی۔اس سے قبل پیر کو لبنانی حکام نے بتایا تھا کہ جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں دو مزید افراد ہلاک ہو گئے۔ اس طرح پیر کے روز مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی۔لبنانی دار الحکومت بیروت کے لوگوں نے بھی غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ انھوں نے شام کے وقت نیچی پرواز کرنے والے ڈرون طیاروں کی آوازیں سنی تھیں۔بم باری کے اس تبادلے کے نتیجے میں امریکی کے توسط سے ہونے والی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ جنگ بندی کو نافذ العمل ہوئے ایک ہفتہ بھی پورا نہیں ہوا ہے۔لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے بتایا ہے کہ اب تک اسرائیل کی جانب سے فائر بندی معاہدے کی 54 خلاف ورزیاں ریکارڈ میں آ چکی ہیں۔
نبیہ بری حزب اللہ کے اتحادی ہیں۔ وہ فائر بندی سے متعلق بات چیت میں مرکزی وساطت کار تھے۔ بری کے دفتر سے جاری ایک بیان میں انھوں نے فائر بندی کی نگران کمیٹی پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا کام شروع کرے اور اسرائیل کو خلاف ورزیوں سے رکنے کا پابند بنائے۔جبکہ دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو میلر کا کہنا ہے کہ ہم فرانس، اسرائیل اور لبنان کے ساتھ میکانزم کے ذریعے فائر بندی کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹوں کی تحقیقات اور اس کے علاج کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔اسرائیل اور لبنان کے درمیان فائر بندی 27 نومبر کی صبح نافذ العمل ہوئی تھی۔



