
بھینسہ:(سید سرفراز )بھینسہ شہر میں اتوار کی شب پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پولیس نے حالات پر قابو پالیا ہے انچارج ایس پی نرمل ویشنو ایس وارئیر نے پریس کانفرنس کے ذریعہ کہا کہ پولیس کی جانب سے شہر میں144نافذ کیا گیا اور پٹرولنگ بھی جاری ہے جبکہ 450پولیس جونواں کو تعینات کیا گیا اور 50اسپیشل آفیسرس بھی حالات پر نگرانی جمائے رکھے ہیں انھوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پولیس نے 40 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے
اگر ان میں سے کوئی بھی دیگر جرائم کا مرتکب پایا گیا تو قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اور جو بھی واقعہ ہوا ہے اسکی مکمل جانچ و تحقیقات کی جائے گی اور انھوں نے عوام کو پر امن رہنے کی اپیل کی افواہوں پر توجہ نہ دینے پر بھی زور دیا نرمل ضلع انچارج ایس پی وشنو ایس واریر نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور اگر اس واقعہ سے متعلق کسی کو کوئی بھی اطلاع فراہم ہو تو فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں لیکن آج صبح سے ہی دیکھا جارہا ہے کہ پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ سو سے ذائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا
عوام میں خوف و ہراس کا ماحول دیکھا جارہا ہے
واضح رہیکہ اتوار کی رات محلہ ذوالفقار میں معمولی واقعہ کو لیکرایک بار پھر فرقہ وارانہ تشدد برپا کیا گیا بتایا جاتا ہیکہ محلہ ذوالفقار میں دو موٹر گاڑیوں کے معمولی تصادم کا جھگڑا دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلیا اشرار کی جانب سے مسجد ذوالفقار کو نشانہ بناتے ہوئے مسجدپر سنگباری کی گئی تھی اور اقلیتی علاقوں کی جانب پتھراؤ کیا گیا
جسمیں 10افراد سے ذائد زخمی ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی تھی ،دو صحافی برادر اور ایک سب انسپکٹر محمد غوث محی الدین اور ایک کانسپٹل اور ایک کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے آیا کہ ابھی انکی حالت کے بارے میں مذید کوئی جانکاری موصول نہیں ہوئی اسی شب ایک آٹو، موٹر گاڑیوں،کو جلا دیا گیا تھا اور اقلیتی فرقہ کی دکان کو اور ایک گھر کو بھی نذر آتش کیا گیا بعد ازاں محمد جابر احمد نائب صدر نشین بلدیہ بھینسہ نے پولیس اسٹیشن پینچ کر پولیس کے اعلی حکام سے حالات پر فوری قابو پانے کا مطالبہ کیا تھا
جبکہ انکے ہمراہ فیض اللہ خان صدر ٹاؤن مجلس بھی موجود تھےلیکن آج پرکشیدہ حالات کو پولیس نےکنٹرول میں کرلیا اور تلنگانہ کے بیشتر علاقوں سے معقول تعداد میں پولیس کو طلب کرتے ہوئے جگہ جگہ پولیس پیکیٹس تعینات بھی کیا گیا اور صبح سے ہی کاروباری دوکانات کے علاوہ دیگر ادارے بھی بند ہیں اور انٹر نیٹ کی سروس بھی معطل کردی گئی رام گنڈم کمیشنر ستہ نارائن نرمل ضلع انچارج ایس پی ویشنو ایس وارئیر و اڈیشنل ایس پی رام ریڈی بھینسہ میں قیام کئیے ہوئے ہیں اور حالات پر نظر جمائے رکھے ہیں
بائیک تصادم کا معمولی واقعہ فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل




