اسرائیل : ایک عرب کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے یہودی کو 11 سال قید
جج ایلی ابرنیل نے کہا کہ مدعا علیہان نے لفظ کے ہر معنی میں دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کی
مقبوضہ بیت المقدس، 15ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)یروشلم کی مجسٹریٹ اسرائیلی عدالت نے مشرقی یروشلم سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان فلسطینی کارکن کو چاقو سے وار کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے جرم میں دو یہودی نوجوانوں کو 11 سال اور 4.5 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جج ایلی ابرنیل نے کہا کہ مدعا علیہان نے لفظ کے ہر معنی میں دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کی اور اسے انجام دیا۔جج نے اس کیس کے مرکزی ملزم نوم ایلیملیک کو 11 سال قید کی سزا سنائی، کیونکہ اس نے حملے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس پر 100,000 شیکل (30,000 ہزار ڈالر) جرمانہ عائد کیا۔ دوسرے ملزم نفتالی المقیس کو ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی۔سزا کے فیصلے کے مطابق مذکورہ دونوں نوجوان 12 مئی 2021 کو مغربی یروشلم کے ایک بازار میں دو دیگر نوجوانوں کے ساتھ آئے تھے۔ انہوں نے منصوبہ بندی سے عرب نوجوان پر حملہ کرنا تھا۔
غزہ کی پٹی اور یروشلم کے شیخ جراح محلے میں ہونے والی جھڑپوں کے تناظر میں انہوں نے ایک عرب نوجوان پر حملے کی کوشش کی۔یہودیوں نے عربوں کے خلاف خونریز حملے کیے اور عربوں نے بھی ایسے ہی حملے کیے تھے۔ کشیدگی کی فضا قائم ہو گئی، جس کا انتہا پسندوں نے فائدہ اٹھا کر دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کو ہوا دی۔انہوں نے اس عرب کو ایک ریستوران میں دیکھا جب وہ کچرا اٹھانے نکلا۔ چنانچہ وہ اس سے بات کرنے لگے کہ یہ معلوم کریں کہ آیا وہ عرب ہے یا نہیں۔ جب انہیں یقین ہو گیا تو اس کو مارنا شروع کر دیا۔بعد میں یہ واضح ہوا کہ نوجوان عرب شخص (جس کی عمر آج 24 سال ہے) شیخ جراح کا رہائشی ہے۔ انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ ایک اسرائیلی ریسٹورنٹ میں کام کر کے اپنی تعلیم کا خرچ چلا رہا ہے۔ چھرا گھونپے جانے سے اس کا کافی خون بہہ گیا۔ وہ معذور ہو گیا۔ تب سے اس نے پڑھائی بھی چھوڑ دی۔



